مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » خرید و فروخت قسطی

۱ سوال: قسطوں پر گاڑی خریدنا کیسا ہے مثلا بہت ساری گاڑی کی کمپنی اور ان کے نمایندے نئی اور پرانی گاڑیوں کو اپنے گراہک کو قسط پر بیچتے ہیں اور جب گراہک قسطوں پر خریدنے کا اقدام کرتے ہیں تو کمپنی یا اس کے نمایندے ان کی درخواست کو قرض دینے والی کمپنیوں کو جو ان کے ساتھ لین دین کرتے ہیں اطلاع دیتے ہیں کہ عام طور پر قرض دینے والے یا بینک ہوتے ہیں یا بیمہ کمپنی ہوتی ہے، اور یہ کمپنی سود کا حساب لگاتے ہیں اس طرح کہ کتنی مدت میں قرض واپس لوٹایا جائے گا اور اس پر کتنا سود لگے گا اور اس پر اتنا ہی سود لیتے ہیں، اور معین شدہ وقت پر قسط ادا نہ کرنے کی صورت میں گراہک سے تاخیر کا بھی پیسا لیتے ہیں، اور سود کی مقدار کو اہم اسباب کی بنا پر محاسبہ کیا جاتا ہے، مثلا گراہک کے پیسوں کی رولنگ کو دیکھا جاتا ہے، اس کی درآمد اور اس کا قسطوں کو تاخیر نہ کرنا وغیرہ کی بنا پر ۳٪ ۴٪ یا ۵٪ یا کم و زیادہ سود لگایا جاتا ہے، اس تفصیل کی بنا پر گاڑی کو خریدنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر اس ميں اس طرح ہوتا ہے کہ قرض دینے والا پہلے کار ڈیلر سے گاڑی خریدتا ہے اور اس کے بعد وہ اس کو قسطوں پر بیچتا ہے اور اپنے سود کو اس کی قیمت کا حصہ بناتا ہے تو یہ معاملہ اور خرید و فروخت بالکل صحیح ہے ۔
لیکن قسطوں کے دیر سے ادا کرنے پر اضافی پیسا لینا جایز نہیں ہے۔
اور اگر یہ مراد نہ ہو بلکہ خود کار ڈیلر خریدار کو گاڑی بیچے اور قرض دینے والا گاڑی کی قیمت کو خود کار ڈیلر کو دے یا اس کے کسی نمایندے کو دے اور پھر گاڑی کے خریدار سے قسطوں پر اس کی اصل قیمت سےزیادہ لے تو یہ سود اور حرام ہے۔
۲ سوال: قسطی طور پر کسی بھی سامان کو اس کی قیمت واقعی سے مہنگا بیچنے اور خریدنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: اس طرح سے بیچنا اور خریدنا جایز ہے لیکن بیچی ہوئی قیمت پر تاخیر کی وجہ سے اضافی پیسے کا مطالبہ کرنا جایز نہیں ہے۔
نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلیک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français