مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » سجدہ سہو

۱ سوال: کیا نماز احتیاط اور سجدہ سہو کے درمیان نماز کو باطل کرنے والے کام انجام دیے جا سکتے ہیں؟
جواب: نماز احتیاط سے پہلے ان امور کو انجام نہیں دیا جا سکتا، احتیاط واجب کی بناء پر یہی حکم سجدہ سہو کا بھی ہے۔
۲ سوال: سجدہ سہو کن چیزوں کے لیے انجام دیا جاۓ۔
جواب: ضروری ہے کہ انسان سلام نماز کے بعد پانچ چیزوں کے لئے اس طریقے کے مطابق جس کا آئندہ ذکر ہوگا دو سجدے سہو بجالائے:
۱۔ نماز کی حالت میں سہواً کلام کرنا۔
۲۔ جہاں سلام نماز نہ کہنا چاہئے وہاں سلام کہنا۔ مثلاً بھول کر پہلی رکعت میں سلام پڑھنا۔
۳۔ تشہد بھول جانا۔
۴۔ چار رکعتی نماز میں دوسری سجدے کے دوران شک کرنا کہ چار رکعتیں پڑھی ہیں یا پانچ، یا شک کرنا کہ چار رکعتیں پڑھی ہیں یا چھ، بالکل اسی طرح جیسا کہ صحیح شکوک کے نمبر ۴ میں گزر چکا ہے۔
ان پانچ صورتوں میں اگر نماز پر صحیح ہونے کا حکم ہو تو احتیاط کی بنا پر پہلی، دوسری اور پانچویں صورت میں اور اقوی کی بنا پر تیسری اور چوتھی صورت میں دو سجدہ سہو ادا کرنا ضروری ہے۔ اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ اگر ایک سجدہ بھول جائے جہاں کھڑا ہونا ضروری ہو مثلاً الحمد اور سورہ پڑھتے وقت وہاں غلطی سے بیٹھ جائے یا جہاں بیٹھنا ضروری ہو مثلا تشہد پڑھتے وقت وہاں غلطی سے کھڑا ہو جائے تو دو سجدہ سہو ادا کرے بلکہ ہر اس چیز کے لئے جو غلطی سے نماز میں کم یا زیادہ ہو جائے دو سجدہ سہو کر ان چند صورتوں کے احکام آئند مسائل میں بیان ہوں گے۔
۳ سوال: سجدہ سہو کا طریقہ کیا ہے؟
جواب: سجدہ سہو کا طریقہ یہ ہے کہ سلام نماز کے بعد انسان فوراً سجدہ سہو کی نیت کرے اور احتیاط لازم کی بنا پر پیشانی کسی ایسی چیز پر رکھ دے جس پر سجدہ کرنا صحیح ہو اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ سجدہ سہو میں ذکر پڑھے اور بہتر ہے کہ کہے : "بِسمِ اللہَ وَبِاللہِ اَلسَّلاَمُ عَلَیکَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ وَرَحمَۃُ اللہِ وَبَرکَاتُہ" اس کے بعد اسے چاہیے کہ بیٹھ جائے اور دوبارہ سجدے میں جائے اور مذکورہ ذکر پڑھے اور بیٹھ جائے اور تشہد کے بعد کہے اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم اور اَولیٰ یہ ہے کہ "وَرَحمۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہ" کا اضافہ کرے۔
نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلیک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français