مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

مرجع عاليقدر آيت الله سيستاني (دام ظله) كے دفتر كے ايك مسئول نے تصریح كيا ہے کہ:
گذشتہ شب معظم لہ كا باياں پير لغزش كها گيا جس كی وجہ سے آپ كے ران كي ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔
انشاالله آج عراقی ڈاکٹروں کے ذريعہ آپ کا آپریشن ہوگا۔
مومنين سے معظم لہ کی شفایابی کے لیے دعا كی گزارش ہے۔

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

غسل میت کی کیفیت اور اس سے مربوط احکام ← → غسل میت

غسل دینے والے شخص کے شرائط

مسئلہ 687: جو شخص میت کو غسل دے رہا ہے لازم ہے کہ عاقل اور مسلمان[77] ہوجنسیت (مرد اور عورت ہو نے میں )کے لحاظ سے میت کے مثل ہو (مگر وہ مقامات جو آئندہ ذكر ہوں گے) اور غسل کے دوران غسل کے مسائل کو جانتا ہوا گرچہ دوسرے کی تعلیم یا رہنمائی کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو اور احتیاط واجب کی بنا پر شیعہ اثنا عشری ہو البتہ اگر میت غیر شیعہ اثنا عشری کی ہو اس کو اس کے مذہب والے اپنے مذہب کے مطابق غسل دیں تو شیعہ اثنا عشری شیعوں پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے اور دوبارہ غسل دینا ضروری نہیں ہے مگر یہ کہ میت کا ولی شیعہ اثنا عشری ہو تو ایسی صورت میں ذمہ داری اس سے ساقط نہیں ہوگی۔

مسئلہ 688:مرد نامحرم عورت کو غسل میت نہیں دے سکتا اور اسی طرح عورت نا محرم مرد کو غسل میت نہیں دے سکتی مگر اس مقام میں جو مسئلہ نمبر 690 میں آئے گا۔

مسئلہ 689: اگر میت کا ہم جنس شیعہ اثنا عشری غسل دینے کے لیے موجود ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر میت کے محرم افراد اس کو غسل نہ دیں مگر ان مقامات میں جو مسئلہ نمبر 690 اور 691 میں آئے گا اور اگر شیعہ اثنا عشری اور میت کا ہم جنس غسل دینے کے لیے نہ ملے تو میت کے محرم افراد اس کو غسل میت دے سکتے ہیں اور اس صورت میں غیر شیعہ اثنا عشری جو میت کا ہم جنس ہے اس کے ذریعہ غسل دینے کی نوبت نہیں آئے گی۔

قابلِ ذکر ہے کہ محرموں کے بارے میں کوئی فرق نہیں ہے چاہے وہ نسبی محرم ہوں جیسے ماں اور بہن یا یہ کہ دودھ پلانے یا شادی کی وجہ سے محرم ہوئے ہوں۔

مسئلہ 690: مرد ایسی چھوٹی بچی کو جو ممیز نہ ہو غسل میت دے سکتا ہے اور عورت بھی ایسے لڑکے کو جو ممیز نہ ہو غسل میت دے سکتی ہے لیکن دونوں صورتوں میں احتیاط مستحب یہ ہے کہ غیر ممیز بچے کا سن تین سال سے زیادہ نہ ہو اور غیر ممیز بچے میں کوئی فرق نہیں ہے کہ غسل دینے والے کے لیے محرم ہو یا نامحرم۔

مسئلہ 691:بیوی اورشوہر ایک دوسرے کو غسل میت دے سکتے ہیں اگرچہ میت کا ہم جنس شخص موجود ہی کیوں نہ ہو شرعی بیوی اور شوہر مرنے کی وجہ سے نامحرم نہیں ہوتے اور ایک دوسرے کے بدن کو مس کرنا دیکھنا جب کہ مرچکے ہوں بغیر شہوت اور لذت کے کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ 692: میت کی شرم گاہ پر نگاہ کرنا(سوائے بیوی اور شوہر اور غیر ممیز بچہ کے)حرام ہے [78] اگرچہ وہ شخص میت کے محرموں میں سے ہو اور جو بھی میت کو غسل دے رہا ہو اگر اس کی شرم گاہ پر نگاہ کرے تو گناہ کیا ہے لیکن غسل میت باطل نہیں ہوگا، لیکن بیوی اور شوہر کا غسل کے وقت ایک دوسرے کی شرم گاہ پر نگاہ کرنا جائز ہے اگرچہ کراہت رکھتا ہے اسی طرح غسل کے وقت غیر ممیز بچہ کی شرم گاہ کی طرف دیکھنا جائز ہے۔

مسئلہ 693: اگر میت اور غسّال (غسل دینے والا) دونوں بالغ مرد یا دونوں بالغ عورت ہوں تو جائز ہے کہ شرم گاہ کے علاوہ میت کے بدن کی دوسری جگہیں برہنہ ہوں لیکن بہتر یہ ہے کہ میت کو لباس کے نیچے سے غسل دیا جائے، اسی طرح نا بالغ ممیز کی میت کا حکم ہے جب بالغ مرد یا عورت جو اس کے ہم جنس ہے اس کو غسل دینا چاہے۔

مسئلہ 694: غسل میت میں شرط نہیں ہے کہ غسل دینے والا بالغ ہوبلکہ اگر ممیز بچہ غسل میت کو صحیح طریقہ سے انجام دے سکتا ہو تو کافی ہے۔

[77] مسلمان ہونے کی شرط صرف ایک خاص مقام میں جو منہاج الصالحین کی جلد اول مسئلہ نمبر 277 میں ذکر ہوئی ہے وجود نہیں رکھتی۔

[78] ممیز بچہ کی شرم گاہ پر نگاہ کرنے کا حرام ہونا اگر شہوت اور لذت کے ساتھ نہ ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر ہے۔
غسل میت کی کیفیت اور اس سے مربوط احکام ← → غسل میت
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français