مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹخبریںhttp://www.sistani.org/محفوظ شدہ دستاویزات » ماہ محرم ۱۴۴۲ہجری میں امام حسین علیہ السلام کی عزاداری سے متعلق استفتاء کا ترجمہ۔<p class="c">بسم اللہ الرحمن الرحیم <br />مرجع عالیقدر حضرت آیت اللہ سیستانی دام ظلہ <br />السلام علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ</p> <p class="c"><br />ماہ محرم قریب ہے اور کرونا وباء ابھی بھی موجود ہے ذمہ دار افراد کی تاکید ہے کہ لوگ ایک جگہ اکٹھا ہونے سے پرہیز کریں بالخصوص بند جگہوں پر اکٹھا نہ ہوں جبکہ بہت سے لوگوں کی خواہش ہے کہ معمول کے مطابق عزاداری کی جائے اس لئے مومنین عزاداری امام حسین علیہ السلام سے متعلق سوال کر رہے ہیں آپ سے متمنی ہیں کہ اس حوالے سے مومنین کی رہنمائی فرمائیں آپ کے شکر گزار ہوں گے-</p> <p class="l">نجف اشرف کے مومنین کا ایک گروہ</p> <p class="c">ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</p> <p class="c">بسم اللہ الرحمن الرحیم</p> <p class="c">السلام علی الحسین وعلی اولاد الحسین وعلی اصحاب الحسین و رحمت اللہ وبرکاتہ</p> <p class="c"> </p> <p>اس درد ناک اور عظیم مصیبت پر- جوکہ اسلام اور مسلمانوں پر وارد ہوئی ہے- غم منانے اور رسول آور آل رسول کو پرسہ دینے کے مختلف طریقے ہیں، من جملہ مندرجہ ذیل موارد:<br />۱-ٹیلیویژن اور انٹرنیٹ کے ذریعے لائیو طور پر نفع بخش پروگرام کو بڑھایا جائے اور اس کام کے لیے دینی اور تہذیبی خدمات کرنے والے ادارے اچھے خطیب اور  نوحہ خواں حضرات کے ساتھ رابطہ کریں اور مومنین کو بھی ترغیب دلائیں کہ اپنے گھر اور اس جیسی جگہوں پر مجلس اور نوحہ سنیں اور اس سے مثاب ہوں-</p> <p>۲- روزآنہ خاص اوقات پر گھروں میں مجلس برپا کی جائے اس طرح سے کہ گھر کے افراد یا وہ لوگ جو ان سے رفت و آمد میں ہیں اس میں  شرکت کریں اور عزاداری کے پروگرام گر چہ ٹیلیویژن پر لائیو یا انٹرنیٹ کے ذریعے آ رہے ہیں بیٹھ کر سنیں، لیکن عمومی مجلسوں میں تمام احتیاطی تدابیر  دقت کے ساتھ رعایت کی جائیں اس معنی میں کہ سوشل ڈسٹینسنگ، ماسک اور وائرس پھیلنے سے روکنے کے لئے دیگر اشیاء کا استعمال کریں اور اس مورد میں  ضروری ہے کہ ذمہ دار افراد کی طرف سے جتنے افراد کو اجازت دی گئی ہو اتنے ہی پر اکتفا کریں البتہ یہ موضوع جگہ کے کھلے ہونے یا بند ہونے یا مختلف علاقوں میں وائرس کے پائے جانے کے لحاظ سے فرق کرتا ہے-</p> <p>۳-ایام عزا کا پیغام پہوچانے کے لیے سیاہ پرچم، علم مبارک زیادہ سے زیادہ چوراہے،راستے ،سڑکوں اور گلیوں میں لگائیں اور تقسیم کریں البتہ اس چیز کی رعایت کرتے ہوئے کہ کسی کی ذاتی ملکیت اور مال میں تصرف نہ کریں اور اپنے ملک کے قوانین کی پیروی کرتے ہوئے اس کام کو انجام دیں،<br />البتہ مناسب ہے کہ آن چیزوں پر امام حسین علیہ السلام کے قیام سے متعلق اصلاحی اقوال اور آپکے غم میں چنندہ اشعار وغیرہ لکہے جائیں-</p> <p>اور مجلس کے تبرکات خاص طور پر صاف صفائی اوراحتیاط کے ساتھ تقسیم کیے جائیں گر چہ اس چیز کی رعایت کرنے میں آپ کو خشک تبرکات تہیہ کرنا پڑے یا بھیڑ جمع نہ ہونے کے لئے لوگوں کے گھروں تک تبرک پہنچانا پڑے-<br /> خدا وندمتعال ہم سب کو حالات کے تقاضے کے لحاظ سے اس اہم مناسبت(ایام عزاء )کو فروغ دینے اور عزاداری امام حسین علیہ السلام  کرنے کی توفیق عنایت فرماے-</p> <p>انہ ولی التوفیق</p> <p> </p> <p class="c">۹ذی الحجہ۱۴۴۱ھ</p> <p class="c">دفتر مرجع عالیقدر آقای سیستانی دام ظلہ نجف اشرف</p>http://www.sistani.org/urdu/archive/26457/محفوظ شدہ دستاویزات » كرونا كی وجہ سے انتقال پانے والے افراد كے دفن و كفن سے متعلق سوال <p class="c"><span class="b">بسم الله الرحمن الرحيم </span><br /><span class="b">دفتر مرجع عاليقدر آقای سيستانى (دام ظله)</span></p> <p><br /><span class="b">سلام عليكم</span> <br /><br /><span class="b">كرونا وايرس كه وجہ سے انتقال کرنے والے افراد سے متعلق كچھ سوالوں كے جواب مرحمت فرمايں:</span> <br /><br />۱- اگر كرونا ميں مبتلاء ہونے کی وجہ سے کسی مسلمان کا انتقال ہو جائے تو اسے دوسرے لوگوں کی طرح غسل دينا ہوگا یا تیمم دینا کافی ہے ؟ <br />اور اگر ذمہ دار افراد تيمم دينے کی بھی اجازت نہ دیں، بلكہ ميت كو دوا لگا كے پيك كروا ديں اور دفن سے پہلے كسی کو بھی اسے کھولنے کی اجازت نہ دیں تو اس صورت ہماری شرعی ذمہ داری کیا ہے؟ <br /><br />۲- اگر ميت كے ساتوں اعضاء پر حنوط كرنا ممكن نہ ہو اس كے لئے کوئی بدل ہے ؟<br />۳- ميت كو تين كفن دينا واجب ہے ؟ او اگر ذمہ دار افراد اسے كفن دينے كے ليے اسے كھولنے کی اجازت نہ ديں تو اس صورت ميں كيا كريں؟ <br />۴- بعض ملكوں میں كرونا كی وجہ سے انتقال كرنے والے افراد كو جلا ديا جا رہا ہے ، کيا مسلمان ميت كے رشتہ دار اس كام كی اجازت دے سكتے ہیں يا ممكنہ صورت ميں اس كام سے روكنا ان كا شرعی وظیفہ ہے؟ <br />۵- ميت كو تابوت ميں رکھ کر دفن کرنا کيسا ہے ؟ <br />۶۔ماہرین کا كہنا ہے کہ کرونا کی وجہ سے انتقال کرنے والے افراد کو عمومی قبرستان ميں دفن كرنے ميں کوئی حرج نہیں ہے ، اور كسی خاص احتياطی تدابير جيسے ميت كو گہرائی میں دفن كرنا وغيره كی ضرورت نہیں ہے، كيوں کہ بطور معمول اس وايرس كے زنده رہنے کے  لیے جاندار اجزاء كا ہونا لازمی ہے اور مريض كے انتقال كے بعد ممكن ہے چند گھنٹے زنده رہے ليكن بدن سے باہر نہیں آسكتا اور مر جائے گا ، <br />اس لیے ڈاکٹری احتياط جيسے دستانے ماسک کے ساتھ میت کو دفن کر سکتے ہیں اور دفن ہونے کے بعد وایرس پھیلنے کا ڈر نہیں ہے۔<br />تو ايسی صورت حال ميں عمومی قبرستان ميں دفن كرنے سے منع كرنا۔ جب كہ ميت كے وارث اور خود ميت كی وصيت كے خلاف ہو۔ کيا حكم ركھتا ہے؟</p> <p class="c"><br /><span class="b">بسم الله الرحمن الرحيم</span></p> <p><br />١- جن موارد ميں كرونا وايرس پھیلنے کے ڈر سے میت کو غسل دينا ممكن نہیں ہے ۔ اگر كوئی شخص اپنے ہاتھ سے گر چہ دستانہ پہن کر دے سکتا ہے تو ایسا کرے ليكن اگر تيمم دينا بھی ممكن نہ ہو يا ذمہ دار افراد اس كام سے منع كريں تو ميت كو بغير غسل اور تيمم كے دفن كر ديں۔<br />۲- ايسی صورت ميں حنوط ساقط ہے اور كوئی بدل نہیں ہے۔<br />۳۔ ميت كو تين كپڑے کا کفن دينا واجب ہےگر چہ اس كے پيكنگ كے اوپر ہو، اور اگر تمام كفن ممكن نہ ہو تو جتنا ممكن ہو كفن دیں جيسے پوری چادر كہ جس سے ميت كا بدن پوري طور پر چھپ جائے۔<br />۴- مسلمان ميت كا جلانا جايز نہیں ہے، اس كے رشتہ دار اور دوسروں پر واجب ہے کہ اس كام سے روكيں اور شریعت كے مطابق دفن كرنے کی پوری کوشش كريں۔<br />۵۔يہ كام جايز ہے ليكن ممكنہ صورت ميں ميت كو تابوت ميں دائیں پہلو قبلہ رخ لٹائیں جس طرح قبر ميں لٹاتے ہیں۔<br />۶- مذكوره صورت ميں ميت كو عمومي قبرستان ميں دفن كرنے سے روكنا جايز نہیں ہے، اور ذمہ دار افراد پر لازم ہے کہ اس كام ميں آسانی كے اسباب فراہم كريں۔<br />والله الاعلم</p> <p class="c"><br /><span class="b">۳ /شعبان /١٤٤١ ہجری </span><br /><span class="b">دفتر مرجعيت عاليقدر آقای سيستانی (مد ظلہ) نجف اشرف</span></p>http://www.sistani.org/urdu/archive/26408/محفوظ شدہ دستاویزات » کرونا سے متعلق چند سوال<p class="c">بسم اللہ الرحمن الرحیم</p> <p class="r">دفتر مرجع عالیقدر تشیع آقای سید علی سیستانی( دام ظلہ )</p> <p class="r">سلام علکیم</p> <p> کرونا وائرس دنیا کے بہت سے ملکوں میں پھیل رہا ہے اور روز بروز اس کے مریضوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔</p> <p>ہمارے لیے واضح ہےکہ مرجعیت اعلیٰ کا اس خطرناک وائرس کے بارے میں کیا موقف ہے (صاحب صلاحیت ذمہ دار افراد کی طرف سے کرونا وائرس نہ پھیلنے کے لئے ضروری دستورالعمل کی پیروی کرنا واجب ہے من جملہ کسی بھی عنوان سے افراد کا ایک جگہ جمع ہونا )<br />اس حوالہ سے مرجع عالیقدر کی خدمت میں کچھ سوال ہیں جن کے جواب کےہم متمنی ہیں:</p> <p>۱:جن افراد کو کرونا ہونے کا امکان پایاجاتا ہے كيا ان سے ہر طرح کے جسمی رابطے جیسے ہاتھ ملانا، گلے ملنا وغیرہ سے اجتناب کرنا لازم ہے؟<br />اور ایسے لوگوں سے احتیاطی تدابیر جیسے ماسک، دستانہ وغیرہ کے بغیر رفت و آمد کرنا جائز ہے؟<br />۲۔ اگر کوئی شخص اس بیماری میں مبتلاء ہے یا اس کے اندر کرونا کی علامت پائے جانے کا شک ہو، اس کے لئے ایسے افراد کے ساتھ جو اس کے حال سے باخبر نہیں ہیں رفت و آمد کرنا، ملنا جلنا جائز ہے؟<br />اور اگر ایسا کیا اور دوسروں تک وائرس کے منتقل ہونے کا باعث بنا تو اس کے اوپر کیا شرعی ذمہ داری ہوگی؟<br />۳۔ اگر کوئی شخص ایسے ملک سے آرہا ہے جہاں پر کرونا وائس پھیل چکاہے، یا یہ کہ مریضوں سے رابطہ میں تھا تو کیا بطور احتیاط واجب ہے کہ خود کو گھر میں کورینٹین رکھے یا ہاسپٹل جائے۔<br />۴۔ رقوم شرعی خمس و زکات وغیرہ کا استعمال ( تاکہ بیماروں کے لئے ضروری اشیاء جیسے ماسک، دستانہ، ہاتھ دھونے کا لکوٹ وغیرہ کی فراہمی کی جاسکے) جائز ہے؟<br />۵۔ ان سخت حالات میں جب کہ مومنین اس بیماری میں مبتلاء ہونے کے خطرات سے روبرو ہیں آپ کیانصیحت کرتے ہیں؟</p> <p class="l">مومنين كا ايك گروه</p> <p class="c">بسم اللہ الرحمن الرحیم</p> <p>۱۔ جس شخص کو خوف ہیکہ دوسروں سے جسمی رابطہ اور ان کے ساتھ رفت و آمد اس بیماری کے سرایت کا باعث ہے جس کے نتیجے میں بہت زیادہ نقصان ہوسکتا ہے گرچہ موت کا باعث نہ بھی ہو تو ضروری ہیکہ ایسے کام سے پرہیز کرے مگر یہ کہ احتیاطی تدابیر کرنے کی وجہ سے جیسے ماسک، دستانہ، ہاتھ دھونے کا لکوٹ وغیرہ خود بیماری میں مبتلاء ہونے سے محفوظ ہو اور اگر ان چیزوں کی رعایت نہیں کی اور اسی بیماری میں جس كا خوف تھا مبتلاء ہوگیا تو وہ شرعاً معذور نہیں ہوگا۔</p> <p>دوسروں کے ساتھ رفت و آمد جبکہ وائرس کے منتقل ہونے کا امکان پایا جاتا ہو جائز نہیں ہے اور اگر ایسا کرے اور دوسروں کے بیمار ہونے کا باعث بنے جب کہ دوسرے اس کے حال سے بے خبر رہے ہوں تو وہ تمام نقصان جو دوسرے پر وارد ہو اس کا شرعی ذمہ دار ہوگا اور اس سبب سے اگر کوئی اس بیماری میں مبتلاء ہوکر انتقال کر جائے تو اس کی دیت بھی دینی ہوگی۔ <br />ایسے شخص پر لازم ہے کہ ان تمام دستور العمل کو اجراء کرے اور انجام دے جو ذمہ دار با صلاحیت افراد کی طرف سے لاگو کیا جارہا ہے۔<br />۴۔ زکات کا سہم (فی سبیل اللہ) اور اسی طرح خمس سہم امامؑ شرعی ضوابط کی رعایت کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں۔<br />۵۔ مومنین کرام كو مندرجہ ذیل امور کی نصیحت کرتے ہیں:</p> <p>(الف)خدا وند متعال کی بارگاہ میں اس بلاء سے نجات پانے کے لئے تضرع، استغاثہ، گریہ و زاری کریں اور کثرت سے نیک کام جیسے غریبوں کی مدد، نیاز مند اور ناتوان افراد کی مدد، تلاوت قرآن اورپیغمبر اسلام اور ائمہ طاہرینؑ سے احادیث میں منقول دعائیں پڑھیں۔</p> <p>(ب)اس بیماری کے شایع ہونے اور پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے لوگوں میں بے وجہ خوف و اضطراب پیدا کئے بغیر افراد احتیاط برتیں اور اس کے نہ پھیلنے کے لئے تمام تر احتیاطی تدابیر کی رعایت کریں اور جو دوستور العمل ذمہ دار با صلاحیت افراد کی طرف سے دیا جارہا ہے اسی پر پابندی کریں، اور اس کی مخالفت نہ کریں۔</p> <p>(د)جن افراد کا کام کاج بند ہونے اور رفت و آمد کی محدودیت کی وجہ مالی نقصان ہو رہا ہے ان کی مدد کریں۔<br />(ہ)جو افراد اس بیماری میں مبتلاء ہیں ان کی تیمارداری کریں اور ان کا خیال رکھیں اور اس میں مذہب و ملت کی کوئی قید نہ ہو اور ان کو تسلی دینے کے ساتھ ان کی ضروریات کو برطرف کرنے کی کوشش کریں۔</p> <p>خدا وندمتعال ہر طرح کی بلاء اور مصیبت سے سب کو محفوظ رکھے۔</p> <p class="c">و السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ</p> <p class="c"> ٢٧رجب ١٤٤١ہجری</p> <p class="c">دفتر مرجع عالیقدر آیت اللہ سیستانی (دام ظلہ) / نجف اشرف</p>http://www.sistani.org/urdu/archive/26404/محفوظ شدہ دستاویزات » ڈاکٹرس، نرس كی جانب سے كرونا وايرس كے مريضوں كی خدمات اور تيمارداری كی قدردانی كرتے ہوۓ معظم لہ كے دفتر كا جواب<p class="c">بسم الله الرحمن الرحيم</p> <p class="r">دفتر مرجع عاليقدر آقای سيستانی (حفظہ الله)</p> <p class="r">السلام عليكم و رحمة الله و بركاتہ<br />جيسا كہ آپ كو بھی اطلاع ہے ان دنوں افراد كرونا وايرس ميں مبتلاء ہیں اور ڈاکٹرس، نرس، اور دوسرے افراد جو ہاسپيٹلس ميں ہیں بيماروں کی خدمت ميں لگے ہوۓ ہیں اور اپنی جان خطرے ميں ڈال كر يہ خدمت انجام دے رہے ہیں چه بسا خود بھی اس بيمای ميں مبتلاء ہو جا رہے ہيں اود خود كی جان فدا كر دے رہے ہیں، <br />اس لیے مرجعيت دينی كا نظريہ اس بارے ميں كيا ہے؟ آگاه فرمايں<br /><br /></p> <p class="c"><br />بسمہ تعالی</p> <p class="r">بيماروں كا علاج او ان كى ديكھ بھال اور ان كے علاج سے مربوط سارے امور كا انجام دينا ڈاكٹرس،نرس، اور باقی لوگوں كے لیے واجب كفائی ہے۔<br />ليكن اس سے مربوط جو ذمہ دار افراد ہیں ان پر بھی لازم ہے کہ بيماری سے حفاظت كے لیے تمام اسباب او وسائل كو فراہم كريں، اس حوالے سے كوئی بھی کوتاہی قابل قبول نہیں ہے۔<br />اس ميں كوئی شك نہیں ہے کہ ان افراد كا كام تمام مشكلات کے ساتھ بہت بڑا اقدام اور ايك عظيم كام ہے جس كی كوئی قيمت نہیں معين كي جا سكتی،<br />چہ بسا ان كی يہ زحمات باڈروں پر لڑ نے والے اور ملك سے دفاع كرنے سپاہیوں كی طرح ہو۔<br />يقينا خداوند متعال نے ان زحمات كی دنيا ميں قدر دانی كی ہے اور آخرت ميں اس كا ثواب انہں عطا كرے گا،<br />بلكہ اميد ہے كہ جس نے بھی اس راه ميں اپنى جان قربان کی ہے قيامت كے دن اسے شہید كا اجر و مرتبہ ملے گا۔<br />ہم ان کی گران بہا خدمات كی قدر دانی کرتے ہیں اور خدا وند متعال سے دعا كرتے ہیں کہ ان كی حفاظت كرے اور ہر برائی سے محفوظ ركھے کہ بيشك وه دعاؤں كا سننے اور اجابت كرنے والا ہے۔<br />۲۱ رجب۱۴۴۱ ہجری</p>http://www.sistani.org/urdu/archive/26390/محفوظ شدہ دستاویزات » مرجع عاليقدر آيت الله سيستاني (دام ظله) كے دفتر كے ايك مسئول نے تصریح كيا ہے کہ <p>مرجع عاليقدر آيت الله سيستاني (دام ظله) كے دفتر كے ايك مسئول نے تصریح كيا ہے کہ: <br />گذشتہ شب معظم لہ كا باياں پير لغزش كها گيا جس كی وجہ سے آپ كے ران كي ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔ <br />انشاالله آج عراقی ڈاکٹروں کے ذريعہ آپ کا آپریشن ہوگا۔ <br />مومنين سے معظم لہ کی شفایابی کے لیے دعا كی گزارش ہے۔</p> <p> </p> <p class="c">16/1/2020</p>http://www.sistani.org/urdu/archive/26379/تالیفات » *توضیح المسائل جامعhttp://www.sistani.org/urdu/book/26352/سوال و جواب » سجدہ سہو کا طریقہ کیا ہے؟<div style="background-color:#ffd;color:maroon;">سجدہ سہو کا طریقہ کیا ہے؟<div>سجدہ سہو کا طریقہ یہ ہے کہ سلام نماز کے بعد انسان فوراً سجدہ سہو کی نیت کرے اور احتیاط لازم کی بنا پر پیشانی کسی ایسی چیز پر رکھ دے جس پر سجدہ کرنا صحیح ہو اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ سجدہ سہو میں ذکر پڑھے اور بہتر ہے کہ کہے : "بِسمِ اللہَ وَبِاللہِ اَلسَّلاَمُ عَلَیکَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ وَرَحمَۃُ اللہِ وَبَرکَاتُہ" اس کے بعد اسے چاہیے کہ بیٹھ جائے اور دوبارہ سجدے میں جائے اور مذکورہ ذکر پڑھے اور بیٹھ جائے اور تشہد کے بعد کہے اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم اور اَولیٰ یہ ہے کہ "وَرَحمۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہ" کا اضافہ کرے۔http://www.sistani.org/urdu/qa/26346/سوال و جواب » سجدہ سہو کن چیزوں کے لیے انجام دیا جاۓ۔<div style="background-color:#ffd;color:maroon;">سجدہ سہو کن چیزوں کے لیے انجام دیا جاۓ۔<div>ضروری ہے کہ انسان سلام نماز کے بعد پانچ چیزوں کے لئے اس طریقے کے مطابق جس کا آئندہ ذکر ہوگا دو سجدے سہو بجالائے: ۱۔ نماز کی حالت میں سہواً کلام کرنا۔ ۲۔ جہاں سلام نماز نہ کہنا چاہئے وہاں سلام کہنا۔ مثلاً بھول کر پہلی رکعت میں سلام پڑھنا۔ ۳۔ تشہد بھول جانا۔ ۴۔ چار رکعتی نماز میں دوسری سجدے کے دوران شک کرنا کہ چار رکعتیں پڑھی ہیں یا پانچ، یا شک کرنا کہ چار رکعتیں پڑھی ہیں یا چھ، بالکل اسی طرح جیسا کہ صحیح شکوک کے نمبر ۴ میں گزر چکا ہے۔ ان پانچ صورتوں میں اگر نماز پر صحیح ہونے کا حکم ہو تو احتیاط کی بنا پر پہلی، دوسری اور پانچویں صورت میں اور اقوی کی بنا پر تیسری اور چوتھی صورت میں دو سجدہ سہو ادا کرنا ضروری ہے۔ اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ اگر ایک سجدہ بھول جائے جہاں کھڑا ہونا ضروری ہو مثلاً الحمد اور سورہ پڑھتے وقت وہاں غلطی سے بیٹھ جائے یا جہاں بیٹھنا ضروری ہو مثلا تشہد پڑھتے وقت وہاں غلطی سے کھڑا ہو جائے تو دو سجدہ سہو ادا کرے بلکہ ہر اس چیز کے لئے جو غلطی سے نماز میں کم یا زیادہ ہو جائے دو سجدہ سہو کر ان چند صورتوں کے احکام آئند مسائل میں بیان ہوں گے۔http://www.sistani.org/urdu/qa/26345/سوال و جواب » کیا رد مظالم ادا کرنے کے لیے مجتہد کی اجازت لازم ہے؟<div style="background-color:#ffd;color:maroon;">کیا رد مظالم ادا کرنے کے لیے مجتہد کی اجازت لازم ہے؟<div>بنا بر احتیاط واجب اجازت لینی ہوگی۔http://www.sistani.org/urdu/qa/26293/سوال و جواب » عورت کوٹ شلوار پہن کر باہر جا سکتی ہے؟ <div style="background-color:#ffd;color:maroon;">عورت کوٹ شلوار پہن کر باہر جا سکتی ہے؟ <div>اگر اس لباس میں اس کے بدن کی برجستگی نمایاں ہو یا گناہ میں پڑنے کا سبب بنے تو جایز نہیں ہے۔ http://www.sistani.org/urdu/qa/26244/سوال و جواب » غسلج جمعہ کر کے نماز پڑھ سکتے ہیں؟ غسل جمعل کا وقت...<div style="background-color:#ffd;color:maroon;">غسلج جمعہ کر کے نماز پڑھ سکتے ہیں؟ غسل جمعل کا وقت کب شروع ہوتا ہے اور کب تک رہتا ہے؟ اور اگر وقت میں انجام نہ دیا ہو تو قضاء بجا لا سکتے ہیں؟<div>ہاں غسل جمعہ کر کے نماز پڑھ سکتے ہیں، اور اس کا وقت جمعہ کے دن اذان صبح سے غروب آفتاب تک ہے، اور جس نے جمعہ کے دن انجام نہ دیا ہو جمعہ کے دن غروب سے سنیچر کے دن غروب تک قضا کی نیت سے انجام دے سکتا ہے، اور یہ قضاء بھی وضو سے کفایت کرے گا۔ http://www.sistani.org/urdu/qa/26230/سوال و جواب » ایک شخص ہر شب اس دن دفن ہونے والے تمام مومنین کے لیے...<div style="background-color:#ffd;color:maroon;">ایک شخص ہر شب اس دن دفن ہونے والے تمام مومنین کے لیے نماز وحشت پڑھتا ہے کیا اس کا یہ عمل صحیح ہے؟<div>نماز کا ثواب ایک سے زیادہ مومنین کے لیے ہدیہ کرنا جایز ہے، بلکہ رجا‎‏‎ء کی نیت سے سب کی طرف سے پڑھ سکتے ہیں انشاء اللہ خدا اس کا اجر دیگا۔http://www.sistani.org/urdu/qa/26229/سوال و جواب » اگر کوئی شخص کسی باہری ملک میں انتقال کر جا‎ۓ تو اس...<div style="background-color:#ffd;color:maroon;">اگر کوئی شخص کسی باہری ملک میں انتقال کر جا‎ۓ تو اس کی نماز وحشت کہاں کے وقت کے مطابق پڑھی جاۓ گی۔<div>جہاں پے انتقال ہوا ہے وہاں کے وقت کے مطابق پڑھیں گے۔http://www.sistani.org/urdu/qa/26228/تالیفات » *آسان زبان میں خواتین کے احکام/files-new/book-pdf/urdu-book-26187.pdfhttp://www.sistani.org/urdu/book/26187/