مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

مدرسہ سید الشہداء کابل میں ہونے والے دہشت گردی کے سانحہ کے بارے میں معظم لہ کے دفتر سے جاری شدہ بیان کا ترجمه

بسم الله الرحمن الرحیم

(إنا لله وإنا الیه راجعون)

 

یہ بھیانک جرم جو رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں انجام دیا گیا ، جس نے کابل کے سید الشهداء اسکول کی طالبات کو بڑی تعداد میں خاک خون میں غلطاں کردیا اور بیسیوں افراد کے شہید اور بڑی تعداد کے شدید زخمی ہونے کا باعث بنا اس واقعه نے ہر آزاد و باضمیر انسان کے دل کو تکلیف پہنچائی ہے اور غم و اندوہ سے بھر دیا ہے۔ اگرچہ گذشتہ کئی سالوں سے افغانستان کے عام شہری وقنا فوقتا سنگدل انتہا پسند گروپوں کے وحشیانہ حملوں کا شکار ہوتے رہتے ہیں لیکن یہ انسانیت سوز واقعہ اپنی نوعیت میں انتہائی تکلیف ده ہے جس کی نظیر کم ملتی ہے .
اس افسوسناک سانحہ پر افغانستان کے مظلوم عوام خاص طور پر غمزدہ خاندانوں کو تعزیت پیش کرتے ہیں اور خداوند عالم سے دعا کرتے ہیں کہ پسماندگان کو صبر جمیل اور زخمیوں کو شفائے عاجل عطا فرمائے۔
افغانستان کی موجودہ مشکل صورتحال اور انتہا پسندوں کے
پہلے سے کہیں زیادہ طاقت حاصل کرنے کے امکان کے پیش نظر افغانستان میں موجود تمام قومیتوں اور افراد کے درمیان یکجہتی اور اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔
افغان حکومت ،قومی و مذہبی رہنماؤں اور عمائدین سے بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ عام شہریوں خصوصا نسلی اور مذہبی اقلیتوں کو دہشت گرد گروہوں کے ظلم و ستم سے بچانے کے لئے مناسب اقدامات کریں گے۔
مسلم ممالک اور عالمی برادری کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ ان مشکل حالات میں افغانستان کی بے بس قوم کو تنہا نہ چھوڑیں اور اس ملک کے مستقبل کے لئے بدخواہوں کے تیار کردہ مذموم منصوبوں کو پورا ہونے کی اجازت نہ دیں کہ جس کے نتیجے میں مزید بے گناہ لوگوں کو انتہا پسند اپنے مجرمانہ حملوں کا نشانہ بنائیں۔ ہم اللہ تعالٰی سے دعا گو ہیں کہ وہ افغانستان کے معزز عوام کے وقار اور سربلندی کو ہمیشہ کے لئے قائم رکھے۔

۲۷ /رمضان /۱۴۴۲هـ

دفتر آیت الله سیستانی ـ نجف اشرف

العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français