مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

چوتھی شرط: مذکورہ حیوانات کی تعداد نصاب کی مقدار بھر ہو ← → دوسری شرط: مذکورہ حیوانات پورے سال دشت و بیابان جیسی طبیعی چراگاہوں سے چریں [301]

تیسری شرط: مالک زكوٰۃ والے ایک سال تمام عمومی اور خصوصی شرائط کے ساتھ مذکورہ حیوانات کا مالک ہو

مسئلہ 2553: اگر گیارہ مہینے کے دوران مذکورہ جانور انسان کی ملکیت سے خارج ہو جائیں مثلاً انہیں بیچ دے یا ان کی تعداد اس حیوان کے نصابِ اول سے کم ہو جائے تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے لیکن گیارہواں مہینہ ختم ہونے اور بارہویں میں داخل ہونے کے بعد بعض شرائط کا مفقود ہونا اثر نہیں رکھتا اس لیے مذکورہ حیوانات پر زکوٰۃ واجب ہو چکی ہے اسے ادا کرنا واجب ہے۔

مسئلہ 2554: اگر انسان گیارہواں مہینہ ختم ہونے کے بعد اپنے گائے ، بھیڑ (بکری)، اونٹ کو کسی دوسرے ہم سنخ یا غیر ہم سنخ حیوان سے تبدیل کرے اور یہ کام زکوٰۃ سے فرار کرنے کے لیے نہ ہو تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے لیکن اگر ایسا کرنا زکوٰۃ سے فرار کرنے کے لیے ہو مثلاً زکوٰۃ سے فرار کرنے کے لیے چالیس بھیڑ دے اور دوسرے چالیس بھیڑ لے چنانچہ دونوں مقام کی منفعت ایک طرح کی ہو[303] مثلاً دونوں مقام میں دودھ دینے والی بھیڑ ہوں اور گیارہویں مہینے کے ختم ہونے تک زکوٰۃ واجب ہونے کے باقی شرائط بھی موجود ہوں تو احتیاط لازم ہے کہ ان کی زکوٰۃ دے۔

[303] دوسرے الفاظ میں مذکورہ حیوانات جو معاوضہ کئے جارہے ہیں مشترک اہمیت رکھتے ہوں یعنی ان کی غالبی منفعت( کہ جس کے لیے انہیں پالا جاتا ہے اور ان حیوانات کی اصلی اہمیت اسی منفعت کی وجہ سے ہے) ایک جیسی ہو۔
چوتھی شرط: مذکورہ حیوانات کی تعداد نصاب کی مقدار بھر ہو ← → دوسری شرط: مذکورہ حیوانات پورے سال دشت و بیابان جیسی طبیعی چراگاہوں سے چریں [301]
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français