مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

تیسری شرط: مالک زكوٰۃ والے ایک سال تمام عمومی اور خصوصی شرائط کے ساتھ مذکورہ حیوانات کا مالک ہو ← → اونٹ ، گائے، بھیڑ (بکری) پر زکوٰۃ واجب ہونے کے خصوصی شرائط

دوسری شرط: مذکورہ حیوانات پورے سال دشت و بیابان جیسی طبیعی چراگاہوں سے چریں [301]

مسئلہ 2549: اونٹ ، گائے اور بھیڑ (بکری) پورے سال میں طبیعی چراہ گاہوں سے چریں ان کی زکوٰۃ واجب ہے اور فرق نہیں ہے کہ وہ گھاس جو حیوان چر رہا ہے بغیر مالک کے ہو یا مالک رکھتی ہو، اور مذکورہ گھاس خشک ہو یا تازی اس بنا پر اگر انسان ایسی زمین کا مالک ہو جس میں خودسے اگی ہوئی گھاس موجود ہو اور اس کی بھیڑیں (بکریاں) پورے سال اس میں چرتی رہی ہوں تو باقی شرائط موجود ہونے کی صورت میں ان کی زکوٰۃ واجب ہے۔

مسئلہ 2550: اگر اونٹ یا گائے یا بھیڑ (بکری) پورے سال یا اس کے کچھ حصے میں کاٹی ہوئی گھاس یا ایسی زراعت جسے بویا گیا ہو کھائے تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے اور فرق نہیں ہے کہ وہ گھاس یا زراعت حیوانات کے مالک کی ہو یا کسی دوسرے شخص کی غصبی ہو یا مباح ہو اور فرق نہیں کہ حیوانات کا وہاں چرنا ان کے مالک کے اختیار سے ہو یا مجبوراً ہو۔

مسئلہ 2551: اگر اونٹ یا گائے یا بھیڑ (بکری) پورے سال میں بہت کم مقدار کاٹی ہوئی گھاس کھائیں یا مختصرلگائی گئی زراعت سے کھائیں کہ عرف میں کہا جائے کہ پورے سال بیابان کی گھاس کھائی ہے یا کھاتی ہے تو اس کی زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہے اور اس چیز کو تشخیص دینے کا معیار عرف ہے۔

مسئلہ 2552:اگر انسان اپنے اونٹ ، گائے اور (بکری) کے لیے ایسی چراگاہ کو جسے کسی نے بویا نہیں ہے خریدے یا کرایہ پرلے تو احتیاط واجب کی بنا پر اس کی زکوٰۃ ادا کرے۔ [302]

[301] ایسے حیوانات کو جو طبیعی چراہ گاہوں سے استفادہ کریں سائمہ کہا جاتا ہے۔
[302] کیونکہ ایسے مقام میں عنوان سائمہ صادق آنا اشکال رکھتا ہے۔
تیسری شرط: مالک زكوٰۃ والے ایک سال تمام عمومی اور خصوصی شرائط کے ساتھ مذکورہ حیوانات کا مالک ہو ← → اونٹ ، گائے، بھیڑ (بکری) پر زکوٰۃ واجب ہونے کے خصوصی شرائط
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français