مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

پانچویں شرط: انسان زكوٰۃ والے ایک سال تمام عمومی اور خصوصی شرائط کےساتھ سونا اور چاندی کا مالک ہو ← → تیسری شرط: سونا یا چاندی معین نصاب کی حد تک پہونچ جائے

چوتھی شرط: سونا اور چاندی سکہ دار ہو اور اس کے ذریعے معاملہ کرنا رائج ہو[300]

مسئلہ 2536:اگر سکہ دار سونے یا چاندی سے معاملہ کرنا رائج ہو اگر چہ سکہ کا نقش مٹ گیا ہو تو لازم ہے کہ اس کی زکوٰۃ ادا کرے لیکن اگر رائج نہ ہو تو زکوٰۃ نہیں ہے گرچہ سکہ کا نقش باقی ہو۔

مسئلہ 2537: سکے دار سونا اور چاندی جو عورتیں زینت کےلیے استعمال کرتی ہیں اگر ان کے ذریعے معاملہ کرنا رائج ہو یعنی سونا اور چاندی معاملے میں پیسے کے طور پر استعمال ہو تو احتیاط کی بنا پر اس کی زکوٰۃ واجب ہے لیکن اگر اس کے ذریعے معاملہ رائج نہ ہو تو اس کی زکوٰۃ واجب نہیں ہے، اس طرح ایسے سونے اور چاندی کے زیورات پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے جو سکہ دار نہ ہو۔

مسئلہ 2538: آج کے زمانے میں جب سونا اور چاندی معاملات میں پیسے کے طور پر استعمال نہیں ہوتا کاغذ كا نوٹ اور دھات کا سکہ وغیرہ سونے اور چاندی کا حکم نہیں رکھتا۔

مسئلہ 2539:سونے اور چاندی کا نصاب جدا حساب ہوگا اس بنا پر جس شخص کے پاس سونا اور چاندی دونوں ہے ان میں سے کوئی ایک بھی پہلے نصاب کے برابر نہ ہو مثلاً اگر 104 بازاری مثقال چاندی، اور 14 بازاری مثقال سونا رکھتا ہو تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے گرچہ دونوں ملاکر نصاب کی مقدار ہوں۔

[300] اس شرط سے معلوم ہو جاتا ہے کہ آج کے زمانے میں ایسا رائج اور معمول نہیں ہے لوگ اپنے معاملات ایسے پیسے سے جو سونے اور چاندی کا ہو انجام دیں۔ سونے اور چاندی کی زكوٰۃ کا موضوع پایا نہیں جاتا۔
پانچویں شرط: انسان زكوٰۃ والے ایک سال تمام عمومی اور خصوصی شرائط کےساتھ سونا اور چاندی کا مالک ہو ← → تیسری شرط: سونا یا چاندی معین نصاب کی حد تک پہونچ جائے
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français