مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

چوتھی شرط: سونا اور چاندی سکہ دار ہو اور اس کے ذریعے معاملہ کرنا رائج ہو[300] ← → سونے اور چاندی کی زکوٰۃ

تیسری شرط: سونا یا چاندی معین نصاب کی حد تک پہونچ جائے

مسئلہ 2532: سونے کا دو نصاب ہے:

پہلا نصاب: بیس مثقال شرعی ہے جس كا ہر مثقال 18 چنے کے برابر ہوتا ہے پس سونا جب بیس مثقال شرعی کی مقدار ہو ۔ جیسا کہ ذكر كیا گیا ہے بازاری مثقال سے پندرہ مثقال کے برابر ہوگا ۔ چنانچہ زکوٰۃ واجب ہونے کے سارے شرائط موجود ہوں لازم ہے کہ چالیسواں حصہ (ڈھائی فی صد) جو نو چنے کے برابر ہوگا اس کی زکوٰۃ کے عنوان سے دے اور اگر اتنی مقدار نہ ہو تو اس کی زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔

دوسرا نصاب: چار مثقال شرعی ہے۔ جیسا کہ کہا گیا بازاری تین مثقال کے برابر ہوگا، یعنی گذشتہ پندرہ بازاری مثقال پر تین بازاری مثقال کا اضافہ ہو جائے تو پورے اٹھارہ بازاری مثقال کی زکوٰۃ چالیسواں حصہ (ڈھائی فی صد) کے اعتبار سے ادا کرے، اور اگر تین مثقال سے کم کا اضافہ ہو تو فقط پندرہ مثقال کی زکوٰۃ دے گا اور اضافے کی زکوٰۃ نہیں ہے اور ایسا ہی ہے جتنا بھی اضافہ ہوتا جائے یعنی اگر تین بازاری مثقال کا اضافہ ہوتو اس کی زکوٰۃ ادا کرے گا اور اگر اس سے کم کا اضافہ ہو تو اس اضافہ شدہ مقدار کی زکوٰۃ نہیں ہے۔

مسئلہ 2533: چاندی کا دو نصاب ہے:

پہلا نصاب: دو سو درہم جیسا کہ ذکر كیا گیا ہے 105 بازاری مثقال کےبرابر ہے پس اگر چاندی کی مقدار 105 بازاری مثقال ہو اور دوسرے شرائط بھی موجود ہوں تو چالیسواں حصہ (ڈھائی فی صد) جو 2 مثقال اور 15 چنا ہے اس کی زکوٰۃ ادا کرے گا اور اگر اس مقدار تک نہ پہونچے تو اس کی زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔

دوسرا نصاب: چالیس درہم جیسا کہ جو ذكر كیا گیا ہے 21 بازاری مثقال کے برابر ہے یعنی اگر 21 بازاری مثقال 105 بازاری مثقال پر اضافہ ہوجائے تو لازم ہے کہ پورے 126 بازاری مثقال کی زکوٰۃ چالیسویں حصے کے حساب سے ادا کرے اور اگر 21 بازاری مثقال سے کم اضافہ ہو تو صرف 105 مثقال کی زکوٰۃ دے اور جو اضافہ ہے اس کی زکوٰۃ نہیں ہے اور اسی طرح ہے جتنا بھی اضافہ ہوتا جائے یعنی اگر 21 بازاری مثقال اضافہ ہو تو پورے کی زکوٰۃ دینی ہوگی اور اگر اس سے کم اضافہ ہو تو اس اضافہ شدہ مقدار کی جو 21 بازاری مثقال سے کم ہے زکوٰۃ نہیں ہے۔

مسئلہ 2534: اگر انسان شک رکھتا ہو کہ سونا یا چاندی، نصاب کی حد تک پہونچا ہے یا نہیں تو احتیاط واجب کی بنا پر تحقیق کرے۔

مسئلہ 2535: جس شخص کا سونا اور چاندی نصاب کی مقدار میں ہے گرچہ اس کی زکوٰۃ دی ہے جب تک پہلے نصاب سے کم نہ ہو اور زکوٰۃ واجب ہونے کے باقی شرائط بھی موجود ہوں تو لازم ہے کہ ہر سال اس کی زکوٰۃ ادا کرے۔

چوتھی شرط: سونا اور چاندی سکہ دار ہو اور اس کے ذریعے معاملہ کرنا رائج ہو[300] ← → سونے اور چاندی کی زکوٰۃ
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français