مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

تیسری شرط: اس کا مالک آزاد ہو غلام نہ ہو ← → زکوٰۃ کا سال

زکوٰۃ واجب ہونے کے عمومی شرائط

زکوٰۃ واجب یا ثابت ہونے کے شرائط دو حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں :

الف: زکوٰۃ واجب یا ثابت ہونے کے عمومی شرائط۔

ب: زکوٰۃ واجب یا ثابت ہونے کے خصوصی شرائط۔

عمومی شرائط مندرجہ ذیل ہیں:

پہلی شرط: وہ چیز جو متعلق زكوٰۃ ہے اس کاکوئی مالک ہو

مسئلہ 2480: چنانچہزكوٰۃ والی چیز[295]مال کا کوئی مالک نہ ہو جیسے گندم یا جو خود سے بیابان میں اُگ آیا ہے یا گائے اور اونٹ جو بیابان وغیرہ میں رہاشدہ ہیں اورا ن کا کوئی مالک نہیں ہے اور کسی نے حیازت (قابض ہوكر) یا شکار وغیرہ سے اسے اپنی ملکیت میں نہیں لیا ہے تو اس پر زکوٰۃ نہیں ہے اور وہ سالِ زكوٰۃ والا مال جو مكمل طور پر کسی شخص کی ملکیت میں نہیں آیا ہے مثلاً وہ مال جو انسان کو ہبہ کیا ہے لیکن اس نے ابھی اپنے قبضے میں نہیں لیا ہےتو اس کی زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔

دوسری شرط: اس کا مالک شخص حقیقی ہو، نہ اعیان یا جہات یا عناوین کلی

مسئلہ 2481: چنانچہ زكوٰۃ والا مال مسجد، امام بارگاہ، حرم مطہر، خانہٴ خدا (کعبہ) اور اس کے مانند چیزوں کی ملکیت ہو تو ان کی زکوٰۃ واجب نہیں ہے اسی طرح اگر زكوٰۃ والا مال کسی جہت کےلیے شرعی ملكیت ہو مثلاً عزاداری كی راہ یا عزاداری امام حسین علیہ السلام کے لیے یا قرآن کریم کی تعلیم کےلیے یا بیماروں کے علاج کے لیے اور اس کے مانند تو اس صورت میں بھی مذکورہ مال کی زکوٰۃ واجب نہیں ہے اور زكوٰۃ والا مال اگر کسی عنوان کلی کی ملکیت ہو مثلاً غریب افراد، علما، طالب علم (اسٹوڈینٹ) اور ان کے مانند تو ایسے مال کی زکوٰۃ واجب نہیں ہے مگر یہ کہ ایسا مال متولی کے ذریعے کسی فرد یا افراد کی ملکیت میں آجائے تو اس صورت میں زکوٰۃ واجب ہونے کے سارے شرائط اکھٹا ہونے پر مذکورہ مال پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔

[295] زكوٰۃ والے مال میں وہی دس مقام ہے جو مسئلہ نمبر ۲۴۷۶ میں ذكر كیا گیا ہے۔
تیسری شرط: اس کا مالک آزاد ہو غلام نہ ہو ← → زکوٰۃ کا سال
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français