مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

مبطل ہشتم: دنیوی کام کے لیے جان بوجھ کر رونا ← → سلام کرنے اور جواب سلام کے احکام

مبطل ہفتم: جان بوجھ کر ہنسنا (قہقہہ)

مسئلہ 1380: جان بوجھ کر قہقہہ لگانا نماز کو باطل کرتا ہے،گرچہ بے اختیار طور پر ہو لیکن اس کے مقدمات اختیاری ہوں، بلکہ اگر مقدمات بھی اختیاری نہ ہوں چنانچہ دوبارہ نماز پڑھنے کے لیے وقت باقی ہو تو احتیاط لازم کی بنا پر دوبارہ پڑھے اور اگر وقت نہ ہو نماز صحیح ہے، اور قہقہہ سے مراد بلند آواز سے اس طرح ہنسے کہ آواز کو کھینچے اور گلے میں گھمائےلیکن آواز سے ہنسنا جو عرفاً قہقہہ شمار نہ کیا جائے نماز کو باطل نہیں کرتا؛ گرچہ احتیاط مستحب ہے کہ اس سے بھی پرہیز کرے اور اس طرح تبسم اور مسکراہٹ نماز کو باطل نہیں کرتی گرچہ جان بوجھ کر ہی کیوں نہ ہو۔

مسئلہ 1381: اگرنماز گزار جان بوجھ کر بغیر آواز کے ہنسے یا بھول كر آواز کے ساتھ ہنسے اگرنماز کی شکل خراب نہ ہو تو اس کی نماز اشکال نہیں رکھتی۔

مسئلہ 1382: اگر ہنسی کی آواز روکنے کے لیے اس کی حالت تبدیل ہوجائے مثلاً رنگ سرخ ہوجائے تو نماز کے باطل ہونے میں اشکال ہے اگرچہ احتیاط واجب یہ ہے کہ نماز کو دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ 1383: اگر نماز گزار مسئلہ نہ جاننےکی وجہ سے نماز میں بلند آواز سے ہنسے (قہقہہ لگائے) چنانچہ جاہل قاصر ہو نہ جاہل مقصر (یعنی مسئلہ سے جاہل ہونے میں معذور ہو) اور نماز کی شکل بھی خراب نہ ہو تو اس کی نماز صحیح ہے۔
مبطل ہشتم: دنیوی کام کے لیے جان بوجھ کر رونا ← → سلام کرنے اور جواب سلام کے احکام
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français