مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

نماز گزار کے لباس کے مستحبات اور مکروہات ← → دوسری مخصوص شرط: اگر نماز گزار مرد ہے تو اس کا لباس خالص ریشم کا نہ ہو

نماز گزار کے لباس کے بعض احکام

مسئلہ 1012: مجبوری کی حالت میں ریشمی اور زردوزی کا لباس پہنا حرج نہیں رکھتا اور اسی طرح جو شخص لباس پہننے پر مجبور ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور لباس نہیں رکھتا تو اس لباس میں نماز پڑھ سکتا ہے۔

مسئلہ 1013: اگر غصبی یاخالص ریشم یا زردوزی کے لباس کے علاوہ کوئی اور لباس نہ رکھتا ہو اور لباس پہننے کے لیے مجبوربھی نہ ہو تو اس دستور کے مطابق جو برہنہ لوگوں کے لیے مسئلہ نمبر 982 میں بیان کیا گیا ہے نماز پڑھے۔

مسئلہ 1014: اگر ایسے لباس کے علاوہ جو حیوانِ درندہ سے بنایا گیا ہے کوئی اور لباس نہ ہو چنانچہ اگر لباس پہننے کے لیے مجبور ہو اورآخر وقت تک اضطرار باقی رہے تو اسی لباس میں نماز پڑھ سکتا ہے اور اگر مجبور نہ ہو تو اس دستور کے مطابق جو مسئلہ نمبر 982 میں برہنہ افراد کے لیے بیان کیا گیا نماز کو بجالائے اور اگر اس لباس کے علاوہ جو حیوان حرام گوشت (جو درندہ نہ ہو) اس سے بنایا گیا ہے کوئی اور لباس نہ ہو چنانچہ اس لباس کے پہننے کے لیے مجبور نہ ہو تو احتیاط لازم یہ ہے کہ دوبارہ نماز پڑھے ایک بار اس لباس کے ساتھ اور دوسری بار اس دستور کے مطابق جو برہنہ لوگوں کے لیے بیان کیا گیا ہے۔

مسئلہ 1015: اگر ایسی کوئی چیز نہیں رکھتا جس سے نماز میں اپنی شرم گاہ کو چھپائے تو واجب ہے کہ اسے مہیا کرے گرچہ کرائے پر لینے یا خریدنے کے ذریعے ہو لیکن اگر اس کا مہیا کرنا حدسے زیادہ سختی کا باعث ہو گرچہ فقر اورتنگ دستی یا مہنگے ہونے یا حد سے زیادہ مہنگی بیچنے کی وجہ سے ہو تو اس کا مہیاکرنا لازم نہیں ہے اور اس دستور کے مطابق جو برہنہ لوگوں کے لیے مسئلہ 982 میں بیان ہوا نماز پڑھ سکتا ہے لیکن اگرضرر کو تحمل کرے اور لباس کو فراہم کر کے نماز پڑھے تو اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ 1016: اگر کسی شخص کے پاس لباس نہ ہو اور کوئی دوسرا شخص اسے لباس ہبہ کر رہا ہو یا عاریہ کے طور پر دے رہا ہو چنانچہ اس کا قبول کرنا اس کے لیے حد سے زیادہ سختی نہ رکھتا ہو تو لازم ہے کہ قبول کرے بلکہ اگر عاریہ کے طور پر لینا یا ہبہ کے طور پر مانگنا اس کے لیے حد سے زیادہ زحمت نہ رکھتا ہو تولازم ہے کہ عاریہ یا ہبہ کے طور پر مانگے۔

مسئلہ 1017: ایسا لباس پہننا جس کا کپڑا یا رنگ یا اس کی سلائی پہننے والے کے لیے معمول نہ ہو تو اگر اس کی بے احترامی اور ذلت کا باعث ہو حرام ہے لیکن اگر اس لباس میں نماز پڑھے گرچہ اس کے پاس پہننے کے لیے صرف وہی لباس ہو اس کی نماز صحیح ہے ۔

مسئلہ 1018: مردوں کے لیے عورتوں کا لباس اور عورتوں کے لیے مردوں کا لباس پہننا حرام نہیں ہے اور اس میں نماز پڑھنا نماز کو باطل نہیں کرتا لیکن احتیاط واجب کی بنا پر جائز نہیں ہے مرد خود کو عورت کی شکل و شمائل کی طرح بنائے یا عورت خود کو مرد کی شکل و شمائل کی طرح بنائے۔

مسئلہ 1019: جس شخص کو لیٹ کر نماز پڑھنی ہو ضروری نہیں ہے چادر یا لحاف جو اپنے اوپر ڈال رہا ہے نماز گزار کےلباس کے شرائط رکھتا ہو مگر یہ کہ اس طرح ہو کہ اس پر پہننا صدق كرے مثلاً اسے اپنے بدن سے لپیٹ لے۔
نماز گزار کے لباس کے مستحبات اور مکروہات ← → دوسری مخصوص شرط: اگر نماز گزار مرد ہے تو اس کا لباس خالص ریشم کا نہ ہو
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français