مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

دوسری شرط: پاک ہو ← → پانچواں مقدمہ: نمازگزار کے لباس کی شرطوں کی رعایت کرنا

نمازگزار کے لباس کی مشترک شرطیں

پہلی شرط: لباس یا جو چیز بھی پہنے ہو واجب مقدار میں بدن کو نماز میں چھپائے

مسئلہ 967: مرد کے لیے نماز میں شرم گاہ کا چھپانا ضروری ہے گرچہ کوئی دیکھ نہ رہا ہو اور بہتر ہے کہ ناف سے زانو تک بھی چھپائے۔

مسئلہ 968: عورت کے لیے نماز میں پورے بدن یہاں تک کہ ہاتھ کی کلائی پیر کی پنڈلیاں ، گردن، سر اور بال کا چھپانا ضروری ہے ، گرچہ ایسی جگہ نماز پڑھ رہی ہو جہاں پر کوئی موجود نہ ہو۔[104]لیکن تین حصے کا چھپانا ضروری نہیں ہے:

الف: چہرے کا وہ حصہ جیسے اسکارف جو معمول کےطور پر نہیں چھپاتا (جب کہ اسکارف کو گلے سے باندھ رکھا ہو)

ب: ہاتھ گٹے سےلے کر انگلی کے سرے تک

ج: پیر ٹخنے سے لے کر نیچے تک

قابلِ ذکر ہے کہ عورت اس بات کا یقین حاصل کرنے کے لیے کہ واجب مقدار کو چھپایا ہے ضروری ہے کہ چہرے کے اطراف کا کچھ حصہ اور ٹخنے سے تھوڑا نیچے تک چھپائے اور اسی طرح خود گٹے اور ٹخنے کا چھپانا واجب ہے۔

مسئلہ 969: اگر نا بالغ بچی نماز پڑھنا چاہے تو اس کا حکم بدن کے چھپانے کے اعتبار سے بالغ عورت کی طرح ہے لیکن نابالغ بچی پر سر ،بال اور گردن کا نمازمیں چھپانا واجب نہیں ہے۔

مسئلہ 970: بالغ عورت کے لیے نماز میں گردن اور ٹھڈی کے نیچے کا حصہ چھپانا لازم ہے؛ لیکن ٹھڈی کا کچھ حصہ جو معمولاً اسکارف گلے سے باندھنے کے بعد رہ جاتا ہے چھپانا لازم نہیں ہے۔

مسئلہ 971: عورت کے لیے احتیاط واجب کی بنا پر نماز میں اپنے بدن کو (استثنا شدہ مقامات کے علاوہ) خود سے بھی چھپانا لازم ہے پس اگر چھوٹی آستین کا لباس یا ایسی شلوار پہنے کہ پیر کی پنڈلی کھلی ہوئی ہواور نماز کے وقت چادر کو اس طرح اوڑھے کہ کوئی دوسرا اس کے بدن کو نہ دیکھ رہا ہو لیکن کیونکہ اپنا چہرہ چادر کے اندر کئے ہوئے ہے اس لیے اپنے برہنہ بدن کے حصے کو دیکھ رہی ہو تو یہ اشکال رکھتا ہے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ ترک کرے۔

مسئلہ 972: جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ عورتوں کے لیے پیر کے ٹخنے سے نیچے کا حصہ نماز میں چھپانا ضروری نہیں ہے لیکن توجہ ہونی چاہیے کہ نا محرم سے ٹخنے سے نیچے کا حصہ بھی چھپانا واجب ہے پس اگر ایسا ہو کہ نا محرم مرد نماز میں اس کے پیر کو (ٹخنے سے نیچے کے حصے کو) دیکھ رہا ہو تو عورت پر اس کا بھی چھپانا واجب ہے اور یہ حکم نا محرم کے موجود ہونے کی وجہ سے ہے نہ نماز کی وجہ سے اس بنا پر اگر گناہ کرے اور نامحرم سے اپنا قدم نہ چھپائے تو اس کی نماز باطل نہیں ہے۔

مسئلہ 973: زینت اور چہرے اور ہاتھ کے گٹے سے انگلیوں تک کا زیور نماز میں اگر نامحرم نہ ہو تو چھپانا ضروری نہیں ہے چنانچہ اگر نا محرم ہو اور اس کا چھپانا واجب ہو لیکن عورت اسے نہ چھپائے تو گناہ گار ہے لیکن ا س کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ 974: نماز میں بدن چھپانے کے لحاظ سے واجب اور مستحب نماز میں کوئی فرق نہیں ہے صرف نماز میت میں اس کا شرط ہونا احتیاط لازم کی بنا پر ہے۔

مسئلہ 975: جس وقت انسان بھولے ہوئے سجدے کی قضا بجالا رہا ہو ضروری ہے کہ بدن کو نماز کی طرح چھپائے اور سجدہٴ سہو کرتے وقت بدن کا چھپانا ضروری نہیں ہے گرچہ احتیاط مستحب ہے کہ سجدہٴ سہو بجالاتے وقت بھی خود کو چھپائے اور اسی طرح سجدہٴ تلاوت قرآن (سجدہٴ واجب قرآن) اور سجدہٴ شکر کو بجالاتے وقت بدن کا چھپانا لازم نہیں ہے۔

مسئلہ 976: اگر انسان جان بوجھ کر نماز میں شرم گاہ کو نہ چھپائے[105] ، تو اس کی نماز باطل ہے اور اگر بھول جانے یا غفلت کی وجہ سے شرم گاہ کو نہ چھپائے اور نماز کے بعد متوجہ ہو کہ نماز میں اس کی شرم گاہ ظاہر تھی تو نماز صحیح ہے اور اگر مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے اس کو نہ چھپایا ہو چنانچہ اس کی لاعلمی مسائل کو سیکھنے میں کوتاہی کرنے کی وجہ سے ہو احتیاط واجب کی بنا پر نماز کو دوبارہ پڑھے لیکن اگر ایسا نہ ہو اور جاہل قاصر شمار ہو تو اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ 977: اگر کوئی شخص نماز کے درمیان متوجہ ہو کہ اس کی شرم گاہ یا جو چیز شرم گاہ کے حکم میں ہے ظاہر ہے تو فوراً اسے چھپائے اور اس صورت میں نماز کا دوبارہ پڑھنا لازم نہیں ہے لیکن احتیاط یہ ہے کہ جس وقت متوجہ ہو کہ اس کی شرم گاہ ظاہر ہے اجزا نماز میں سے کچھ بجانہ لائے۔

مسئلہ 978: اگر لباس کھڑے ہونے کی حالت میں شرم گاہ یا جو چیز شرم گاہ کے حکم ہے اس کو چھپا رہا ہو لیکن ممکن ہے کہ دوسری حالت میں جیسے حالت رکوع یا سجود میں نہ چھپائے چنانچہ جس وقت اس کی شرم گاہ یا وہ چیز جو شرم گاہ کے حکم میں ظاہر ہو جائے کسی چیز سے اسے چھپائے تو اس کی نماز صحیح ہے، لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس لباس میں نماز نہ پڑھے۔

مسئلہ 979: انسان نماز میں اختیاری حالت میں خود کو گھاس، درخت کے پتے، روئی یا اون اور اُس طرح کی چیزوں سے (کہ جن پر عنوانِ لباس صادق نہیں آتا) اس طریقے سے چھپائے کہ یہ نہ کہیں اس کا بدن برہنہ ہے، تو کافی ہے لیکن احتیاط مستحب ہے کہ اس طرح پہنے کہ عرفاً عنوانِ لباس صدق كرے۔

مسئلہ 980: شرم گاہ اور وہ چیز جو شرم گاہ کےحکم میں ہے اختیار کی حالت میں گیلی مٹی سے چھپانا اگر اتنی زیادہ ہو کہ نہ کہا جائے کہ اس کا بدن برہنہ ہے تو کافی ہے، لیکن صرف بدن کی کھال کو گیلی مٹی یا کیچڑ سے مل لینا حالتِ اختیار میں کافی نہیں ہے گرچہ مجبوری کی حالت میں جب کہ کوئی چیز چھپانے کے لیے نہ ہو بدن کی کھال ظاہر نہ ہونے کے لیے واجب ہے کہ اسے پاک گیلی مٹی ، کیچڑ اور اسی طرح کی چیز سے چھپائے گرچہ اس کا حجم نمایا ں ہو۔

مسئلہ 981: اگر کوئی چیز نہ رکھتا ہو جس سے نماز میں خود کو چھپائے چنانچہ ایسی چیز کے حاصل ہونے سے مایوس نہ ہو تو احتیاط واجب یہ ہے کہ نماز میں تاخیر کرے اور پھر اگر کوئی چیز حاصل نہ ہو تو آخر وقت میں اپنے وظیفے کے مطابق عمل کرے لیکن اگر نا امید ہو تو اول وقت اپنے وظیفے کے مطابق (گرچہ برہنہ) نماز پڑھ سکتا ہے اور اس صورت میں اگر نماز کو اول وقت میں پڑھے اور اس کے بعد اتفاقاً اس کا عذر بر طرف ہو جائے تو نماز کو دوبارہ پڑھنا ضروری نہیں ہے۔

مسئلہ 982:جو شخص نماز پڑھنا چاہتا ہے اگر اس کے پاس خود کو چھپانے کے لیے درخت کے پتے، گھاس، گیلی مٹی، کچھ بھی نہ ہو اور آخری وقت تک کوئی ایسی چیز حاصل ہونے سے جس سے خود کو چھپا سکے ناامید ہو تو اگر مطمئن ہو کہ شرم گاہ یا جو چیز شرم گاہ کے حکم میں ہے کوئی ناظر محترم (ایسا دیکھنے والا محترم شخص جس کو دکھانا جائز نہیں ہے) نہیں دیکھ رہا ہے تو کھڑا ہو کر اختیاری رکوع اور سجود کے ساتھ نماز پڑھے گا اور اگر احتمال دے کہ کوئی ناظر محترم اسے دیکھ رہا ہے تو اس طرح نماز پڑھے گا کہ اس کی شرم گاہ ظاہر نہ ہو مثلاً بیٹھ کر نماز پڑھے اور اگر خود کو ناظر محترم سے چھپانے کے لیے مجبور ہو کہ قیام ، رکوع اور اختیاری سجود کو ترک کرے یعنی تینوں حالت میں دیکھ رہا ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھے اور رکوع اور سجدے کے لیے اشارہ کرے اور اگر مجبور ہو کہ تین چیز میں سے کسی ایک کو ترک کرے تو اسی کو ترک کرے پس اس صورت میں اگر کھڑا ہو سکتا ہو اور رکوع اور سجدے کے لیے اشارہ کرے تو یہ کام مقدم ہے گرچہ اس صورت میں احتیاط مستحب ہے کہ نماز کو دومرتبہ پڑھے، ایک مرتبہ کھڑے ہوکر رکوع اور سجود کے لیے اشارہ کرکے اور دوبارہ بیٹھ کر نماز پڑھے اور رکوع اور سجود بیٹھ کے انجام دے اور اگر کھڑا ہونا دیکھنے کا باعث ہو تو بیٹھے اور رکوع اور سجود کو بیٹھ کے انجام دے اور احتیاط لازم یہ ہے کہ برہنہ شخص نماز میں اپنی شرم گاہ کو بدن کے بعض حصے سے چھپائے ، جیسے بیٹھنے کی حالت میں دونوں رانوں سے اور کھڑے ہونے کی حالت میں دونوں ہاتھوں سے چھپائے قابلِ ذکر ہے کہ اس کیفیت کی نماز کو جو اضطرار کی حالت میں بجا لائی جاتی ہے عریان یا برہنہ لوگوں کی نماز کہی جاتی ہے۔


[104] اس بنا پر عورت کا پورا بدن صرف تین استثنا شدہ مقام کے علاوہ شرم گاہ کے حکم میں ہے کہ جس کا چھپانا نماز میں واجب ہے۔

[105] قابلِ ذکر ہے کہ اس مسئلے اور آنے والے مسائل میں عورت کا بدن مسئلہ 968 میں استثنا شدہ مقامات کے علاوہ شرم گاہ کا حکم رکھتا ہے۔
دوسری شرط: پاک ہو ← → پانچواں مقدمہ: نمازگزار کے لباس کی شرطوں کی رعایت کرنا
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français