مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

دوسرا مقدمہ: قبلہ کی رعایت ← → پہلا مقدمہ : وقت کی رعایت

اوقات نماز کے دوسرے احکام

مسئلہ 894: انسان اس وقت نماز پڑھ سکتا ہے کہ جب اسے یقین ہو جائے وقت داخل ہو چکا ہے یا دو عادل مر د وقت کے داخل ہونے کی گواہی دیں، بلکہ کسی کی خبر یا اس شخص کی اذان سے بھی جس کے بارے میں مکلف کو معلوم ہے کہ وقت داخل ہونے کی شدید رعایت کرتا ہے چنانچہ باعث اطمینان ہو تو اس پر اکتفا کر سکتا ہے۔

مسئلہ 895: اگر کسی فردی مانع کے سبب جیسے نابینائی یا زندان میں ہونا نماز کا اول وقت داخل ہونے کےبارے میں اول وقت یقین حاصل نہ کرسکے تو لازم ہے کہ نماز میں تاخیر کرے یہاں تک کہ وقت داخل ہو نے کا یقین یا اطمینان حاصل ہو جائے اور احتیاط لازم کی بنا پر یہی حکم ہے اگر وقت کے داخل ہونے کا یقین حاصل ہونے میں کوئی عمومی چیز جیسے بادل گرد و غبار وغیرہ مانع ہو۔

مسئلہ 896: اگر نماز کا وقت اتنا کم ہو کہ نماز کے بعض مستحب اعمال انجام دینے کی وجہ سے نماز کا کچھ حصہ وقت کے بعد پڑھا جائے تو لازم ہے کہ اس مستحب عمل کو ترک کرے مثلاً اگر قنوت پڑھنے کی وجہ سے نماز کا کچھ حصہ وقت کے بعد پڑھا جائے تو لازم ہے کہ قنوت کو نہ پڑھے اور اگر پڑھ لیا تو اس صورت میں نماز صحیح ہے اگر کم از کم ایک رکعت کو وقت میں پڑھا ہو۔

مسئلہ 897: جو شخص ایک رکعت نماز پڑھنے کی مقدار وقت رکھتا ہو تو چاہیے کہ نماز کو ادا کی نیت سے پڑھے لیکن نماز کو جان بوجھ کر اس وقت تک تاخیر نہیں کر سکتا ۔

مسئلہ 898: جو شخص مسافر نہیں ہے اگر سورج کے ڈوبنے اور اس کے ڈوبنے تک پانچ رکعت کے برابر وقت رکھتا ہو یا یہ کہ شک رکھتا ہو کہ پانچ رکعت کا وقت ہے یا اس سے کم تو لازم ہے کہ نماز ظہر اور عصر کو ترتیب سے پڑھے، اور اگر پانچ رکعت سے کم وقت رکھتا ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر اس طریقے پر عمل کرے:

احتیاطاً نماز عصر کو ظہر سے پہلے پڑھے پھر نماز ظہر کو غروب آفتاب سے مغرب کے وقت کے درمیانی فاصلہ میں ادا اور قضا کی نیت کئے بغیر پڑھے پھر ترتیب کی رعایت کرنے کے لیے دوبارہ نماز عصر کو ادا اور قضا کی نیت کیے بغیر پڑھے۔[99]{ FR 3348 }

اور اگر سورج ڈوب جائے اور مغرب تک پانچ رکعت کے برابر وقت رکھتا ہو یا یہ کہ شک رکھتا ہو کہ پانچ رکعت کے برابر وقت رکھتا ہے یا اس سے کم تو نماز ظہر اور عصر کو احتیاط واجب كی بنا پر اسی وقت کے فاصلہ میں ادا اور قضا کی نیت کئے بغیر پڑھے اور اگر اس سے کم وقت ہے تو اس طریقے پر عمل کرے:

احتیاطاً نماز عصر کو نماز ظہر سے پہلے ادا اور قضا کی نیت کئے بغیر پڑھے پھر نماز ظہر کو قضا کرے اور احتیاطاً ترتیب کی رعایت کرنے کے لیے نماز عصر دوبارہ پڑھے۔[100]

مسئلہ 899: وہ تمام احکام جو گذشتہ مسئلے میں بیان ہوئے مسافر کے لیے بھی وہی حکم ہے اس فرق کے ساتھ کہ مسافر کے لیے غروب یا مغرب تک وقت باقی رہنے میں تین رکعت معیار ہے نہ پانچ رکعت۔

مسئلہ 900: جو شخص مسافر نہیں ہے اگر آدھی رات ہونے میں پانچ رکعت نماز پڑھنے کا وقت رکھتا ہو تو نماز مغرب اور عشا کو ترتیب سے پڑھے گا، اور اسی طرح سے اگر وقت کی مقدار میں شک رکھتا ہو اور اگر چار رکعت یا اس سے کم مقدار وقت رکھتا ہو تو پہلے نماز عشا کو پڑھے ۔

مسئلہ 901: جو شخص مسافر ہے اگر آدھی رات ہونے میں چار رکعت کے برابر وقت رکھتا ہو تو نماز مغرب اور عشا کو ترتیب سے پڑھے گا اور اسی طرح سے اگر وقت کی مقدار میں شک رکھتا ہو اور اگر تین رکعت کے برابر وقت رکھتا ہو تو پہلے نماز عشا کو پڑھے گا اور اس ایک رکعت کے باقی وقت میں فوراً مغرب کی نماز ادا اور قضا کی نیت کئے بغیر پڑھے گا، اور اگر آدھی رات ہونے میں صرف دو رکعت یا ایک رکعت کے برابر وقت رکھتا ہو تو پہلے نماز عشا کو پڑھے۔

مسئلہ 902: اگر نا بالغ بچہ نماز کے وقت میں بالغ ہو جائے تو اگر ایک رکعت یا اس سے زیادہ پڑھنے کا وقت رکھتا ہو ایسی صورت میں واجب ہے کہ نماز کو پڑھے چنانچہ بالغ ہونے سے پہلے اور نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد نماز پڑھی ہو اور نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے بالغ ہو جائے تو نماز کا دوبارہ پڑھنا داجب نہیں ہے گرچہ احتیاط مستحب ہے کہ دوبارہ بجالائے ۔

مسئلہ 903: اگر انسان کوئی ایسا عذر رکھتا ہو جس کی بنا پر اگر نماز کو اوّل وقت میں پڑھنا چاہے تو مجبور ہے کہ تیمم کرکے پڑھے چنانچہ عذر کے برطرف ہونے سے مایوس ہو یا احتمال دے کہ نماز تاخیر کرنے کی وجہ سے تیمم کرنے سے بھی معذور ہو جائے گا تو اوّل وقت تیمم کرکے نماز پڑھ سکتا ہے لیکن اگر مایوس نہ ہو تو لازم ہے کہ عذر برطرف ہونے تک انتظار کرے یا مایوس ہو جائے چنانچہ اس کا عذر برطرف نہ ہو توآخر وقت میں نماز پڑھے اور ضروری نہیں کہ اتنا انتظار کرے کہ صرف واجبات نماز کو بجالائے بلکہ مستحبات نماز بھی جیسے اذان، اقامت اور قنوت کے لیے اگر وقت رکھتا ہے تو تیمم کرکے نماز کو مستحبات کے ساتھ انجام دے سکتا ہے۔

اور تیمم کے علاوہ دوسرے عذر میں گرچہ مایوس نہ ہو اور احتمال دے کہ عذر آخر وقت تک برطرف ہو جائے گا جائز ہے کہ اوّل وقت نماز پڑھے چنانچہ اگر وقت کے درمیان عذر بر طرف ہو جائے تو بعض مقامات میں لازم ہے کہ نماز دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ 904: جو شخص نماز کے مسائل کو نہیں جانتا اور بغیر سیکھے ہوئے نماز کو صحیح طور پر نہیں پڑھ سکتا یا شکیات اور سہویات کو نہیں جانتا اور احتمال دے رہا ہو کہ ان میں سے کوئی ایک نماز میں پیش آئے اور مسئلے کو نہ جاننے کی وجہ سےکسی واجب کو ترک کرے یا کسی حرام کا مرتکب ہو تو لازم ہے کہ ان کو سیکھنے کے لیے نماز اوّل وقت پڑھنے سے تاخیر کرے، لیکن اگر اس امید سے کہ نماز کو صحیح طور پر انجام دے گا اول وقت نماز پڑھنا شروع کردے اور دورانِ نماز کوئی ایسا مسئلہ جس کا حکم نہ جانتا ہو پیش نہ آئے تو اس کی نماز صحیح ہے اور اگر ایسا مسئلہ جس کا حکم نہیں جانتا پیش آئے جائز ہے کہ دو طرف میں سے کسی ایک طرف اس امید سے کہ اس کا وظیفہ ہوگا عمل کرے اور نماز کو تمام کرے لیکن نماز کے بعد مسئلے کو معلوم کرے کہ اگر اس کی نماز باطل تھی تو دوبارہ پڑھے اور اگر صحیح تھی تو دوبارہ پڑھنا ضروری نہیں ہے۔

مسئلہ 905: اگر نماز کا وقت وسیع ہو اور قرض دینے والا بھی اپنے قرض کو مقروض سے مطالبہ کر رہا ہو تو امکان کی صورت میں مقروض کو چاہیے کہ پہلے اپنے قرض کو ادا کرے پھر نماز پڑھے اور اِسی طرح اگر کوئی دوسرا واجب کام جس کا فوراً بجالانا ضروری ہو پیش آجائے مثلاً دیکھے کہ مسجد نجس ہے تو لازم ہے کہ پہلے مسجد کو پاک کرے پھر نماز پڑھے ، چنانچہ ہر صورت میں اگر پہلے نماز پڑھے تو گناہ کیا ہے لیکن نماز صحیح ہے۔

مسلئہ 906: ضروری ہے کہ انسان نماز عصر کونماز ظہر کے بعد اور نماز عشا کو نماز مغرب کے بعد پڑھے اور اگر جان بوجھ کے نماز عصر کو نماز ظہر سے یا نماز عشا کو نماز مغرب سے پہلے پڑھے تو باطل ہے۔

مسئلہ 907: اگر بھول کر نماز ظہر پڑھنے سے پہلے نماز عصر پڑھنا شروع کر دے اور نماز کے درمیان متوجہ ہو تو لازم ہے کہ نیت کو نماز ظہر کی طرف پلٹا دے یعنی نیت کرے کہ ابھی تک جو پڑھا ہے اور جو پڑھ رہا ہوں اور پڑھوں گا سب نماز ظہر قرار پائے لیکن اس نیت کو زبان پر جاری نہ کرے اور پھر نماز کے ختم ہونے کے بعد نماز عصر پڑھے۔

مسئلہ 908: اگر بھول كر نماز مغرب پڑھنے سے پہلے نماز عشا پڑھنا شروع کر دے اور نماز کے درمیان متوجہ ہو چنانچہ چوتھی رکعت کے رکوع تک نہ پہونچا ہو تو لازم ہے کہ نیت کو نماز مغرب کی طرف پلٹا دے اور نماز کو تمام کرے اور پھر نماز عشا پڑھے اور اگر چوتھی رکعت کے رکوع میں پہونچ گیا ہو تو نماز عشا کو تمام کرے یہ نماز صحیح ہے اور اس کے بعد نماز مغرب بجالائے۔

مسئلہ 909: اگر نماز ظہر کی نیت سے نماز پڑھنا شروع کر دے اور نماز کے درمیان یاد آئے کہ نماز ظہر پڑھ چکا ہے تو نیت کو نماز عصر کی طرف نہیں پلٹا سکتا بلکہ لازم ہے کہ نماز کو توڑے اور پھر سے نماز عصر پڑھے مغرب اور عشا کی نماز کے بارے میں بھی یہی حکم ہے۔

مسئلہ 910: اگر نماز عصر کے درمیان یقین ہو جائے کہ نماز ظہر نہیں پڑھی ہے اور نیت کو نماز عصر کی طرف پلٹا دے چنانچہ اگر یاد آئے کہ نماز ظہر پڑھ چکا تھا تو نیت کو پھر سے نماز عصر کی طرف پلٹا کے تمام کر سکتا ہے البتہ یہ حکم اس صورت میں ہے جب نماز کے بعض اجزا کو ظہر کی نیت سے نہ بجا لایا ہو یا اگر بجا لایا ہو تو وہ عصر کی نیت سے دوبارہ بجالائے لیکن اگر وہ رکعت نماز کا جز ہو تو ہر صورت میں اس کی نماز باطل ہے اور اسی طرح اگر رکوع یا ایک رکعت کا دوسجدہ ہو تو اس کی نماز، احتیاط لازم کی بنا پر باطل ہے۔

مسئلہ 911: اگر نماز عصر کے درمیان شک کرے کہ نماز ظہر پڑھی ہے یا نہیں تو لازم ہے کہ نماز کو عصر کی نیت سے تمام کرے اور پھر نماز ظہر بجالائے لیکن اگر وقت اتنا کم ہے کہ نماز عصر ختم ہونے کے بعد وقت ختم ہو جائے گا اور ایک رکعت کے لیے بھی وقت باقی نہ رہے تو نماز ظہر کا قضا کرنا ضروری نہیں ہے۔

مسئلہ 912: اگر نماز عشا کے درمیان شک کرے کہ نماز مغرب پڑھی ہے[101] یا نہیں تو لازم ہے کہ عشا کی نیت سے نماز کو تمام کرے اور پھر نماز مغرب بجالائے لیکن اگر وقت اتنا کم ہو کہ نماز عشا ختم ہونے کے بعد وقت ختم ہو جائے اور ایک رکعت کے برابر بھی وقت نہ بچا ہو تو نماز مغرب کی قضا کرنا ضروری نہیں ہے۔

مسئلہ 913: اگر نماز عشا کے درمیان چوتھی رکعت کے رکوع تک پہونچنے کے بعد شک کرے کہ نماز مغرب پڑھی یا نہیں تولازم ہے کہ نماز کو تمام کرے اور اس کے بعد اگر نماز مغرب کےلیے وقت بچا ہو تو اسے بھی پڑھے۔

مسئلہ 914: اگر انسان جس نماز کو پڑھ چکا ہے احتیاطاً دوبارہ پڑھے اور نماز کے درمیان یاد آجائے کہ وہ نماز جو اس سے پہلے پڑھنی چاہیے تھی نہیں پڑھا تو نیت کو اس نماز کی طرف نہیں پلٹا سکتا مثلاً جس وقت کوئی شخص نماز عصر کو احتیاطاً پڑھ رہا ہو اسے یا د آئے کہ نما ز ظہر نہیں پڑھی ہے تو نیت کو نماز ظہر کی طرف نہیں پلٹا سکتا ۔

مسئلہ 915: نیت کو نماز قضا سے نماز ادا کی طرف اور نماز مستحب سے نماز واجب کی طرف پلٹانا جائز نہیں ہے۔

مسئلہ 916: اگر ادا نماز کا وقت وسیع ہو چنانچہ نماز کے درمیان یاد آئے کہ قضا نماز اس کے ذمّے ہے تو نیت کو قضا نماز کی طرف پلٹا سکتا ہے۔


[99] قابلِ ذکر ہے کہ اس صورت میں اگر پہلی نماز کو بغیر معین کئے ہوئے کہ ظہر ہے یا عصر (ما فی الذمہ کی نیت کہ نماز کی کون سی قسم ہونے میں) اور ادا کے قصد سے پڑھے پھر غروب سے مغرب تک کے فاصلہ میں دوسری نماز بھی بغیر معین کئے ہوئے کہ ظہر ہے یا عصر اور بغیر نیت ادا اور قضا کے (ما فی الذمہ کی نیت سے کہ نماز کی کون سی قسم ہے اور ادا اور قضا کے لحاظ سےبھی) پڑھے تو رعایت احتیاط کے لیے کافی ہے اور تین نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

[100] قابلِ ذکر ہے کہ اگر مغرب تک پانچ رکعت سے کم وقت رکھتا ہو تو پہلی نماز کو ظہر یا عصر ادا اور قضا کی نیت کئے بغیر (مافی الذمہ کی نیت سے نماز کی کون سی قسم میں اور ادا اور قضا ہونے میں بھی) پڑھےبعد میں پھر ایک دوسری نماز (ما فی الذمہ کی نیت) سے قضا کرے تو احتیاط کی رعایت کے لیے کافی ہے اور تین نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

[101] اس مسئلے اور اس سے قبل والے مسئلے میں نماز گزار نیت عصر کو نماز ظہر کی طرف یا نیت عشا کو نماز مغرب کی طرف نہیں پلٹا سکتا۔
دوسرا مقدمہ: قبلہ کی رعایت ← → پہلا مقدمہ : وقت کی رعایت
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français