مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

اوقات نماز کے دوسرے احکام ← → مقدّمات نماز

پہلا مقدمہ : وقت کی رعایت

یومیہ واجب نمازوں کے اوقات مندرجہ ذیل ہیں:



1
۔ ظہر اور عصر کی نماز کا وقت

مسئلہ 884: ظہر اور عصر کی نماز کا وقت ظہر شرعی (زوال) سے شروع ہوتا ہے ظہر شرعی یا زوال سے مراد طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کے فاصلہٴ زمانی میں سے نصف زمانے کا گزر جانا ہے۔ مثلاً اگر طلوع آفتاب کسی شہر میں چھ (6)بجے صبح اور غروب آفتاب بیس (20) (یعنی شام کے ۸)بجے ہو تو اس صورت میں طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کا فاصلہ (14) گھنٹہ ہے کہ اس کا آدھا 7 گھنٹہ ہوتا ہے اس بنا پر طلوع آفتاب سے (7) گھنٹہ گزرنے کے بعد ظہر شرعی ہے جو (1) بجے ظہر ہوگا ۔[97]

مسئلہ 885: ظہر شرعی کی تعیین شاخص کی مدد سے بھی کی جا سکتی ہے اس بنا پر اگر کسی لکڑی یا اس طرح کی چیز جسے شاخص کہتے ہیں ہموار زمین میں بالکل سیدھی گاڑی جائے، صبح میں جب سورج طلوع کرتا ہے اس کا سایہ مغرب کی طرف پڑے گا، اور جتنا سورج بلندی پر پہنچتا جائے گا یہ سایہ کم ہوتا جائے گا اور ایران کے شہروں میں اور بہت سے ملکوں میں سایہ اپنے کم از کم اندازے تک پہونچ جاتا ہے اور ظہر کے گزرنے کے بعد اس کا سایہ مشرق کی طرف چلا جاتا ہے اور جیسے جیسے سورج مغرب کی طرف بڑھتا جائے گا سایہ بڑا ہوتا جاتا ہے چنانچہ جب اس کا سایہ اپنے کم از کم اندازے تک پہونچ جائے اور پھر دوبارہ زیادہ ہونا شروع ہو جائے معلوم ہو جاتا ہے کہ ظہر شرعی کا وقت ہو گیا ہے لیکن بعض شہروں میں بعض اوقات ظہر کے وقت شاخص کا سایہ بالکل ختم ہو جاتا ہے اور اس کے بعد دوبارہ ظاہر ہوتا ہے تو اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ ظہر شرعی کا وقت ہو گیا ہے ۔

مسئلہ 886: جو شخص سورج کے ڈوبنے میں شک کرتا ہو اور احتمال دے رہا ہو کہ سورج پہاڑ عمارت یا درختوں کے پیچھے چھپا ہوا ہو تو جب تک مشرق کی طرف جوسرخی ظاہر ہے انسان کے سر سے نہیں گزری ہے تب تک وقت باقی ہے، اور اگر غروب آفتاب کے وقت میں شک نہ رکھتا ہو تو احتیاط واجب ہے کہ ظہر اور عصر کی نماز کو سورج ڈوبنے تک تاخیر نہ کرے اور تاخیر کی صورت میں اسے ادا اور قضا کی نیت کئے بغیر پڑھے۔

مسئلہ 887: اگر کوئی شخص جان بوجھ کر عصر کی نماز کو ظہر سے پہلے پڑھے تو باطل ہے، مگر یہ کہ آخر وقت میں ایک نماز پڑھنے سے زیادہ فرصت نہ رکھتا ہو تو اس صورت میں اگر کسی شخص نے اس وقت تک نماز ظہر نہ پڑھی ہو تو اس کی نماز ظہر قضا ہو چکی ہے اور اسے چاہیے کہ نماز عصر پڑھے اور اگر کوئی اس وقت سے پہلے غلطی سے پوری نماز عصر کو ظہر سے پہلے پڑھ لے تو اس کی نماز عصر صحیح ہے اور نماز ظہر پڑھے گا اور احتیاط مستحب ہے کہ دوسری چار رکعت مافی الذمہ کی نیت سے پڑھے۔



2
۔ مغرب اور عشا کی نماز کا وقت

مسئلہ 888: نماز مغرب کا وقت احتیاط واجب کی بنا پر اس وقت سے شروع ہوتا ہے جب مشرق کی سرخی جو سورج ڈوبنے کے بعد ظاہر ہوتی ہے انسان کے سر سے گزر جائے البتہ اس کا احتیاط واجب ہونا اُس وقت کے بارے میں ہے جب انسان غروب آفتاب کےوقت کو جانتا ہو اس صورت میں احتیاط واجب کی بنا پر غروب آفتاب کے وقت نماز مغرب کو نہیں پڑھ سکتا لیکن اگر اس احتمال کے سبب کہ سورج پہاڑ، عمارت یا درختوں کے پیچھے چھپا ہو سورج کے ڈوبنے میں شک رکھتا ہو تو فتویٰ ہے کہ سورج کی سرخی سر سے زائل ہونے سے پہلے نماز نہیں پڑھ سکتا۔

مسئلہ 889: نماز مغرب اور عشا کا وقت مختار (غیرمضطر) شخص کے لیے آدھی رات تک ہے اور مضطر انسان کے لیے یعنی وہ شخص جس نے بھول كر یا سونے کی وجہ سے یا حیض اور اس طرح کے عذر کی وجہ سے آدھی رات تک نہ پڑھی ہو مغرب اور عشا کاوقت طلوع فجر تک ہے اور ہر صورت میں توجہ کی حالت میں دونوں میں ترتیب لازم ہے، یعنی پہلے مغرب اور پھر عشا کو بجالائے گاچنانچہ جان بوجھ کر عشا کی نماز مغرب سے پہلے پڑھے باطل ہے مگر یہ کہ فقط نماز عشا پڑھنے کی مقدار کا وقت بچا ہو تو اس صورت میں ضروری ہے کہ عشا کو مغرب سے پہلے پڑھے۔

مسئلہ 890: اگر کوئی شخص غلطی سے عشا کی نماز مغرب سے پہلے پڑھے اور نماز کے بعد متوجہ ہو تو اس کی نماز صحیح ہے اور نماز مغرب کو اس کے بعد بجالائے ۔

مسئلہ 891: مختار شخص کے لیے نماز عشا کا آخری وقت جیسا کہ گزر گیا آدھی رات تک ہے اور نماز عشا کے لیے آدھی رات سے مراد احتیاط واجب کی بنا پر غروب آفتاب اور طلوع فجر (اذان صبح) کا نصف زمانی فاصلہ ہے۔ [98]

مسئلہ 892: اگر کوئی شخص مغرب اور عشا کی نماز کو اختیار کی حالت میں آدھی رات تک نہ پڑھے تو احتیاط واجب كی بنا پر اسے چاہیے کہ اذان صبح سے پہلے نماز کو ادا اور قضا کی نیت کیے بغیر بجالائے البتہ اگر نماز صبح تک وقت کم ہو مثلاً وہ شخص جو مسافر نہیں ہے فقط چار رکعت یا اس سے کم رکعت کا وقت رکھتا ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر عشا کی نماز مافی الذمہ کی نیت سے پڑھے اور بعد میں مغرب کی نماز قضا کرکے پڑھے اور احتیاطاً دوبارہ ترتیب کی رعایت کرے اور نماز عشا کو دوبارہ پڑھے۔

3
۔ صبح کی نماز کا وقت

مسئلہ 893: اذان صبح کے قریب مشرق کی جانب سے ایک سفیدی اوپر کی طرف ظاہر ہوتی ہے کہ اسے فجر اول کہتے ہیں جب وہ سفیدی پھیل جائے تو فجر دوم اور نماز صبح کا اول وقت ہو جاتا ہے اور نماز کا آخری وقت سورج نکلنے تک ہے۔


[97] اس بنا پر ہمیشہ 12 بجے ظہر شرعی نہیں ہے بلکہ ہر سال کے بعض اوقات میں معتدل شہروں میں جیسے قم اور تہران 12 بجے سے چند منٹ پہلے اور کبھی 12 بجے کے چند منٹ بعد ہوتا ہے، اور مشرقی شہروں میں مغربی شہروں کی بہ نسبت ظہر کا وقت پہلے ہوتا ہے۔

[98] مثال کے طور پر اگر کسی شہر میں غروب آفتاب 6 بجے اور طلوع فجر 4 بجے صبح ہو تو غروب آفتاب اور طلوع فجر کا زمانی فاصلہ 10 گھنٹے ہیں کہ جن کا آدھا 5 گھنٹے ہوں گے کہ غروب آفتاب کے وقت میں اضافہ کریں یا طلوع فجر کے وقت سے کم کریں تو رات کے 11 بجے ہوگا کہ احتیاط واجب كی بنا پر نصف شب اور نماز عشا کا اختیاری وقت کہلائےگا۔
اوقات نماز کے دوسرے احکام ← → مقدّمات نماز
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français