مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

جن چیزوں پر تیمم کیا جائے اس کی شرطیں ← → ساتواں مقام : وقت تنگ ہو

وہ چیزیں جن پر تیمم کرنا صحیح ہے

مسئلہ 823: وہ چیزیں جن پر تیمم کرنا صحیح ہے تین مرحلہ رکھتی ہیں:

1
۔ وہ چیز جسے زمین کہا جاتا ہے جیسے مٹی یا جو چیز زمین سے ملحق ہو جیسے فرش اور اس کے مانند چیزوں پر گرد و غبا ر ہو اس طرح کہ نرم مٹی شمار ہو۔

2
۔ گیلی مٹی۔

3
۔ وہ چیز جس پر گرد و غبار ہو لیکن اس کا گرد و غبار ظاہر نہ ہو اور اگر ظاہر ہو تو اتنی مقدار میں نہ ہو کہ مٹی شمار ہو ۔

قابلِ ذکر ہے کہ جب تک پہلے مرحلے کی چیزوں پر تیمم کرنا ممکن ہو تو دوسرے مرحلے کی باری نہیں آئے گی اور جب تک دوسرے مرحلے کی چیزوں پر ممکن ہو تو تیسرے مرحلہ کی باری نہیں آئے گی اور ہر ایک کی وضاحت آئندہ مسئلے میں ذکر ہوگی۔

مسئلہ 824: مٹی، ریت ، ڈھیلے اور پتھر پر تیمم کرنا صحیح ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ دو شرطیں جو آئندہ فصل میں اس چیز کےلیے جس پر تیمم کیا جاتا ہے بیان کی جائیں گی پائی جاتی ہوں۔ لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ اگر مٹی میسر ہو تو دوسری چیز پر تیمم نہ کرے اور اگر مٹی نہ ملے تو بہت نرم ریت کہ جس پر خاک صدق کرے تیمم کرے اور اگر ممکن نہ ہو تو ڈھیلے پر اور اگر وہ بھی ممکن نہ ہو تو ریت پر اور اگر ریت اور ڈھیلہ بھی نہ ملے تو پتھر پر تیمم کرے۔

مسئلہ 825: جسپم اور چونے کے پتھر پر ان شرطوں کی رعایت کے ساتھ جو فصل میں ذکر ہوگی تیمم کرنا صحیح ہے۔

مسئلہ 826: پکے ہوئے جسپم اور چونے پر اور پکی ہوئی اینٹ اور مٹی کے برتن پر اور اس گرد و غبار پر جو قالین ، لباس، اور ان جیسی چیزوں پر جمع ہوجاتی ہے اگر اتنی ہو کہ عرفاً اس کومٹی کہا جائے اور اسی طرح قیمتی پتھر جیسے عقیق اور فیروزہ پر اگر ان مقامات میں سے ہر ایک ان شرائط کو جو آئندہ فصل میں ذکر ہوں گے رکھتا ہو تیمم صحیح ہے اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ اختیاری صورت میں ان پر تیمم نہ کیا جائے۔

مسئلہ 827: گیلی مٹی کی دیوار پر تیمم کرنا ان شرطوں کے ساتھ جو آئندہ فصل میں ذکر ہوں گے صحیح ہے اسی طرح ایسی زمین یا مٹی پر جس میں مختصر رطوبت پائی جاتی ہو تیمم کرنا صحیح ہے اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے انسان خشک مٹی یا زمین کے ہوتے ہوئے نم زمین پر یا مٹی پر تیمم نہ کرے ۔

مسئلہ 828: ان چیزوں پر تیمم کرنا جس پر زمین کا نام صدق نہ آتا ہو باطل ہے اس بنا پر گھاس ، پھول، معدنیات، شیشہ، پلاسٹک، کپڑا اور اس کے مانند چیزوں پر تیمم کرنا صحیح نہیں ہے۔

مسئلہ 829: اگر تیمم کے پہلے مرحلے والی چیزمیں یعنی مٹی، ریت، ڈھیلہ، پتھر اور گرد وغبار جو نرم مٹی شمار ہو نہ مل سکے تو ضروری ہے عرفاً جس کو گیلی مٹی کہا جاتا ہو ان شرطوں کے ساتھ جو آئندہ فصل میں ذکر ہوگی اس پر تیمم کیا جائے اور گیلی مٹی کو مکمل طور پر ہاتھ سے برطرف کرنا کہ کچھ بھی چپکی نہ رہے جائز نہیں ہے بلکہ احتیاط واجب یہ ہے کہ کچھ گیلی مٹی کو جو ہاتھ میں لگی ہے بر طرف نہ کرے مگر اتنی مقدار میں کہ اگر اس کو نہ ہٹائے گا تو ہاتھ پر مسح کرنا صدق نہیں کرے گا۔

مسئلہ 830: اگر گیلی مٹی نہ مل سکے تو ضروری ہے قالین، لباس اور اس کے مانند دوسری چیزوں کے اندر یا اوپر جو گرد و غبار جمی ہو لیکن اتنی نہ ہو کہ عرف کی نظر میں خاک شمار ہو اس پر تیمم کرے ۔

مسئلہ 831: اگر کوئی فرش یا اس کے مانند دوسری چیزوں کو جھاڑ کر مٹی کو مہیا کر سکتا ہو تو ایسی صورت میں گیلی مٹی اور گرد آلود چیز پر تیمم باطل ہے اور اسی طرح گیلی مٹی کو خشک کرکے اس سے مٹی حاصل کر سکتا ہو تو اس صورت میں گیلی مٹی پر تیمم کرنا باطل ہے۔

مسئلہ 832: تیمم کرنے کے لیے ذکر ہونے والے تینوں مرحلوں میں سے کوئی ایک بھی نہ ملے تو اس شخص کو فاقد الطہورین (یعنی بے وضو و بے تیمم) کہا جائے گا وقت میں اس کی نماز ساقط ہوگی اور اس کی قضا کرنا واجب ہے اگرچہ احتیاط مستحب ہے ایسا شخص وقت میں بغیر تیمم کے نماز پڑھے، لیکن بعد میں اس کی قضا بھی بجالائے۔

مسئلہ 833: اگر کسی کے پاس پانی نہ ہو لیکن برف ہو اگر ممکن ہو تو ضروری ہے اسے پگھلائے اور اس سے وضو کرے یا غسل کو بجالائے اور اگر پگھلانا ممکن نہ ہو اور کوئی چیز بھی نہ ہو جس پر تیمم کرناصحیح ہے تو لازم ہے اپنی نماز کو وقت کے بعد قضا کرے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ برف سے وضو یا غسل کے اعضا کو تر کرے اور وضو میں ہاتھ کی تری سے سر اور پیروں کا مسح کرے اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ برف پر تیمم کرے اور وقت میں نماز کو پڑھے اور دونوں صورتوں میں نماز کی قضا بجالانا واجب ہے۔

مسئلہ 834: اگر کوئی چیز نہ ہو جس پر تیمم کرے چنانچہ خریدنے اور اس کے مانند کسی اور طریقہ سے مہیا کرناممکن ہو تو ضروری ہے مہیا کرے۔
جن چیزوں پر تیمم کیا جائے اس کی شرطیں ← → ساتواں مقام : وقت تنگ ہو
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français