مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

عورتوں سے مخصوص تین خون ← → غسل کرنے کی کیفیت

مستحب غسل

مسئلہ 463: اسلام کی مقدس شریعت میں بہت سے غسل مستحب ہیں ان میں سے بعض یہ ہیں:

1
۔ غسل جمعہ: اس کا وقت جمعہ کی اذان صبح سے لے کر غروب آفتاب تک ہے بہتر ہے کہ ظہر کے نزدیک بجالائے اور اگر ظہر تک انجام نہ دے تو بغیر ادا اور قضا کی نیت کئے ہوئے غروب تک بجالائے اور اگر کوئی جمعہ کے دن غروب تک غسل نہ کرے تو مستحب ہے اس کے بعد شب شنبہ یا روز شنبہ غروب آفتاب تک اس کی قضا بجالائے اگرچہ بہتر ہے کہ غسل جمعہ کی قضا شب شنبہ کو انجام نہ دے بلکہ روز شنبہ صبح کی اذان سے غروب آفتاب تک بجالائے اور اگر کوئی جانتا ہو کہ جمعہ کے دن پانی نہیں ملے گا تو جمعرات یا شب جمعہ کو رجاءاً غسل کر سکتا ہے لیکن جو غسل جمعہ رجاءاً انجام دیا ہے وہ وضو سے کفایت نہیں کرے گا اور مستحب ہے انسان غسل جمعہ کرتے وقت کہے: "اَشْهَدُ اَنْ لا اِلهَ إلّا اللهُ وَحْدَهُ لا شریٖكَ لَهُ وَاَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُه، اللّهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَاجْعَلْنیٖ مِنَ التَّوّابیٖنَ وَاجْعَلْنیٖ مِنَ المُتَطَهِّریٖنَ"۔

2 سے 7:
ماہ رمضان کی پہلی ، سترہویں، انیسویں، اکیسویں، تیئسویں اور چوبیسویں کی رات کا غسل ۔

8اور 9:
عید الفطر اور عید قرباں کے دن کا غسل اور اس کا وقت اذان صبح سے غروب آفتاب تک ہے اور بہتر ہے نماز عید سے پہلے کرلیا جائے۔

10 اور 11
۔: ماہ ذی الحجہ کی آٹھویں اور نویں تاریخ کا غسل اور بہتر ہے کہ نویں تاریخ کو ظہر كے نزدیک غسل کرے ۔

12
۔ اس شخص کا غسل جس نے اپنے بدن کے کسی حصے کو ایسی میت کے بدن سے مس کیا ہو جسے غسل دیا جا چکا ہے۔

13
۔ غسل احرام۔

14
۔ حرم مکہ میں داخل ہونے کے لیے غسل۔

15
۔ مکہ میں داخل ہونے کے لیے غسل ۔

16
۔ خانہٴ کعبہ کی زیارت کا غسل۔

17
۔ کعبہ میں داخل ہونے کا غسل۔

18
۔ ذبح اور نحر کے لیے غسل (مناسک حج میں)۔

19
۔ بال مونڈنے کے لیے غسل (مناسک حج میں)۔

20
۔ حرم مدینہ منورہ میں داخل ہونے کا غسل ۔

21
۔ مدینہ منورہ میں داخل ہونے کے لیے غسل۔

22
۔ مسجد نبوی میں داخل ہونے کے لیے غسل۔

23
۔ پیغمبر اکرمﷺ کی قبر مطہر سے وداع ہونے کا غسل ۔

24
۔ دشمن کے ساتھ مباہلہ کے لیے غسل۔

25
۔ استخارہ کے لیے غسل ۔

26
۔ طلب باران اور بارش کے لیے غسل ۔

قابلِ ذکر ہےکہ مذکورہ غسلوں کا مستحب ہونا معتبر دلیلوں سے ثابت ہے ۔

مسئلہ 464: فقہاء عظام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم نے بہت سے مقامات کو مستحب غسل کا جز قرار دیا ہے جن میں سے بعض غسل مندرجہ ذیل ہیں:

1
۔ ماہ رمضان کی تمام فرد راتوں کا غسل اور اس کے آخر کی پوری دس راتوں کا غسل اور اس کی تیئسویں رات کے آخری شب میں دوسرا غسل ۔

2۔ 24
ذی الحجہ کے دن کا غسل۔

3تا 7
۔ عید نوروز کے دن اور 15شعبان اور 9 اور 17 ربیع الاول اور 25 ذی القعدہ کے دن کا غسل۔

8
۔ جو مستی کی حالت میں سویا ہو اس کا غسل۔

9
۔ اس عورت کا غسل جس نے انپے شوہر کے علاوہ کسی دوسرے کےلیے خوشبو کا استعمال کیا ہو۔

10
۔ اس شخص کا غسل جو کسی سولی چڑھے ہوئے انسان کو دیکھنے گیا ہو اور اس کو دیکھا ہو لیکن اگر اتفاقاً یا مجبوری کی حالت میں اس کی نگاہ پڑ جائے یا مثلاً گواہی دینے گیا ہو تو غسل مستحب نہیں ہے۔

11
۔ معصومین علیہم السلام کی زیارت کے لیے غسل چاہے دور سے ہو یا نزدیک سے۔

قابلِ ذکر ہے ان غسلوں کا مستحب ہونا ثابت نہیں ہے اور اگر کوئی اس کو انجام دینا چاہتا ہو تو رجاکے قصد سے انجام دے۔

مسئلہ 465: انسان ان غسلوں کے ساتھ جن کا مستحب ہونا شرعاً ثابت ہے جو مسئلہ نمبر 463 میں بیان ہوچكے بغیر وضو کئے ہوئے ایسے کاموں کو جن میں وضو ضروری ہے جیسے نماز انجام دے سکتا ہے لیکن وہ غسل جو رجاءاً بجالایا ہے۔ جو مسئلہ نمبر 464 میں بیان ہوچكے وہ اس طرح نہیں ہے۔ اس بنا پر ان کاموں کے لیے جن میں وضو ضروری ہے اس غسل پر اکتفا نہیں کر سکتا بلکہ وضو بھی کرنا ضروری ہے۔

مسئلہ 466: اگر کسی پر کئی غسل مستحب ہوں اور سب کی نیت کرکے ایک غسل کرے کافی ہے مگر ایسے غسلوں میں سے ہو جو کسی کام کے سبب جو مکلف نے انجام دیا ہے اس كے لیے مستحب ہوا ہو مثلاً اس کا غسل جس نے اپنے بدن کے کسی حصّے کو ایسی میت سے جس کو غسل دیا جا چکا ہے مس کیا ہو اس طرح کے غسلوں میں احتیاط واجب یہ ہے چند مختلف سبب کےلیے ایک غسل پر اکتفا نہ کرے۔

عورتوں سے مخصوص تین خون ← → غسل کرنے کی کیفیت
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français