مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

وضو کے دوسرے احکام ← → دسویں شرط: اس کے لیے پانی کا استعمال مضر نہ ہو

گیارہویں شرط: وضو کے اعضا تک پانی پہونچنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو

مسئلہ 321: اگر وضو کے اعضا پر کوئی چیز چپکی ہو اور پانی کے پہونچنے سے مانع ہو جیسے نیل پالش ، ٹیپ، اور رنگ روغنی (پینٹ) تو ایسی صورت میں اس کو برطرف کرنا ضروری ہے اور اگر پانی کے پہونچے میں مانع نہ ہو جیسے مہندی کا رنگ تو حرج نہیں ہے اور اگر شک ہو کہ پانی پہونچے سے مانع ہے یا نہیں تو اس کو برطرف کرنا ضروری ہے یا پھر اس کے نیچے پانی کو پہونچائے۔

مسئلہ 322: اگر کسی کے ناخن کے نیچے ایسی میل ہو جو بدن تک پانی پہونچنے میں مانع ہو اگر ناخن چھوٹے ہوں تو وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر ناخن بڑے ہوں تو ناخن کا وہ حصہ جو معمول سے زیادہ بڑا ہے اور ظاہری جز شمار ہوتا ہے اس کے نیچے کی میل کو برطرف کرے لیکن اگر ناخن کو کاٹیں اور میل انگلی کے ظاہری حصہ میں ہو تو وضو کے لیے اس میل کو برطرف کرنا ضروری ہے۔

مسئلہ 323: مثلاً وہ چھالے جو چلنے کی وجہ سے کھال پر ظاہر ہو گئے ہوں اس کے اوپر دھونا اور مسح کرنا کافی ہے اورا گر سوراخ ہو جائے اس کے نیچے پانی پہونچانا ضروری نہیں ہے اور اگر اس کا ایک حصہ اکھڑ جائے تو کھال کا ظاہری حصہ دھونا کافی ہے اور نیچے جو اکھڑا ہوا نہیں ہے اس کے نیچے پانی پہونچانا ضروری نہیں ہے اور اگر اکھڑی ہوئی کھال ابھی عضو سے متصل ہو اور کبھی بدن سے چپک جاتی ہو اور کبھی نہیں چپکتی تو اس کھال کا دھونا ضروری ہے مگر جو حصہ عرفاً بدن کا تابع شمار نہیں ہوتا ہے اس کا دھونا ضروری نہیں ہے لیکن اس کے نیچے پانی پہونچانا اگر ظاہر شمار ہو ضروری ہے قابلِ ذکر ہے کہ یہ حکم اس وقت ہے جب اس حصہ کے لیے پانی مضر نہ ہو اور اگر پانی مضر ہو تو اس سے مربوط احکام وضوئے جبیرہ میں آئیں گے۔

مسئلہ 324: اگر انسان شک کرے کہ اس کے اعضا ئے وضو پر کوئی چیز چپکی ہے یا نہیں اور اس کا احتمال لوگوں کی نظر میں درست ہو مثلاً چونا یا رنگ کرنے کے بعد شک کرے کہ چونا یا رنگ اس کے ہاتھ میں چپکا ہے یا نہیں تو ضروری ہے کہ تحقیق کرے یا اتنا زیادہ ہاتھ کو مَلے کہ اطمینان ہو جائے کہ اگر مانع تھا تو برطرف ہو گیا یا پانی اس کے نیچے پہونچ گیا ہے۔

مسئلہ 325: اگر انسان جس جگہ کو دھونا یا مسح کرنا چاہتا ہے اس پر میل ہو لیکن وہ میل بدن تک پانی پہونچنے میں مانع نہ ہو تو مشکل نہیں ہے اسی طرح اگر چونا یا اس کے مانند کوئی کام کرنے کے بعد کوئی سفید چیز جو کھال تک پانی پہونچنے میں مانع نہیں بنتی اس کے ہاتھ پر باقی رہے لیکن اگر شک کرے کہ اس کے ہونے سے پانی بدن تک پہونچتا ہے یا نہیں تو اس کو برطرف کرنا ضروری ہے۔

مسئلہ 326: اگر کوئی وضو سے پہلے جانتا ہو کہ وضو کے بعض اعضا میں ایسی چیز ہے جو پانی پہونچنے سے مانع ہے اور وضو کے بعد شک کرے کہ وضو کرتے وقت پانی وہاں پر پہونچا ہے یا نہیں تو اس کا وضو صحیح ہے۔

مسئلہ 327: اگر وضو کے بعض اعضا میں کوئی ایسا مانع ہو کہ کبھی پانی خود بخود اس کے نیچے پہونچ جاتا ہو اور کبھی نہ پہونچتا ہو جیسے انگوٹھی، دست بند (كڑے)چوڑی اور انسان وضو کے بعد شک کرے کہ پانی اس کے نیچے پہونچا ہے یا نہیں تو اس کا وضو صحیح ہے لیکن ایسی صورت میں اگر وہ جانتا ہو کہ وضو کے وقت اس کے نیچے پانی پہونچنے کی طرف متوجہ نہیں تھا تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ دوبارہ وضو کرے۔

مسئلہ 328: اگر کوئی وضو کرے اور وضو کے بعد وضو کے اعضا پر کوئی مانع (رکاوٹ) دیکھے جیسے ٹیپ یا نیل پالش وغیرہ تو اگر معلوم ہو کہ یہ مانع وضو سے پہلے تھا تو اس کا وضو باطل ہے۔ گرچہ وضو سے پہلے اس نے وضو کے اعضا کی تحقیق کی ہو اور اگر اس وضو سے نماز پڑھی ہو تو اس کو اپنے وقت میں دوبارہ پڑھنا ضروری ہے اور اگر وقت گزر گیا ہو تو قضا کرے۔

مسئلہ 329: اگو وضو کرنے کے بعد کوئی چیز جو پانی پہونچنے میں رکاوٹ ہے اعضائے وضو پر دیکھے اور نہ جانتا ہو کہ وضو کرتے وقت تھی یا بعد میں ظاہر ہوئی ہے تو اس کا وضو صحیح ہے ۔لیکن اگر یہ جانتا ہو کہ وضو کرتے وقت اس مانع کی طرف متوجہ نہیں تھا تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ دوبارہ وضو کرے۔

مسئلہ 330:اگر وضو کے بعد شک کرے کہ اعضائے پر پانی کے پہونچنے میں کوئی چیز مانع تھی یا نہیں تو وضو صحیح ہے اور اس صورت میں مانع کو پیدا کرنے کےلیے تحقیق کرنا ضروری نہیں ہے ۔
وضو کے دوسرے احکام ← → دسویں شرط: اس کے لیے پانی کا استعمال مضر نہ ہو
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français