مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

چوتھی شرط: وضو کے اعضا دھوتے اور مسح کرتے وقت پاک ہوں ← → وضو صحیح ہونے کے شرائط

پہلی اور دوسری شرط: وضو کا پانی پاک اور مطلق ہو

مسئلہ 286: جس پانی سے وضو کیا جائے اُس کا پاک ہونا ضروری ہے اور احتیاط واجب کی بنا پر ایسی چیزوں سے آلودہ نہ ہو جس سے انسان متنفر ہو اسے گھن آتی ہو، جیسے حلال گوشت حیوان کا پیشاب، پاک مردار اور زخم کا مواد: اگرچہ شرعی طور پر وہ چیز پاک ہو۔

مسئلہ 287: نجس اور مضاف پانی سے وضو باطل ہے اگرچہ انسان اس کے نجس ہونے یا مضاف ہونے کو نہ جانتا ہو یا بھول گیا ہو اورا گر ایسے وضو کے ساتھ نماز پڑھی ہو تو صحیح وضو کے ساتھ دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ 288: اگر مٹیالے مضاف پانی کے علاوہ کوئی دوسرا پانی وضو کے لیے نہ ہو اگر نماز کا وقت اتنا کم ہو کہ وضو کرنے کے لیے اور واجباتِ نماز کو پڑھنے کے لیے وقت نہ ہو تو تیمم کرنا ضروری ہے ، اورا گر وقت ہو تو انتظار کرے تاکہ پانی صاف ہو جائے، یا کسی طریقے سے اس کو صاف کریں اور وضو کریں اور مٹی سے آلودہ پانی اس وقت مضاف ہوگا جب اس کو پانی نہ کہا جائے ۔

تیسری شرط: وضو کا پانی غصبی نہ ہو

مسئلہ 289: غصبی پانی یا ایسے پانی سے جس کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ اس کا مالک راضی ہے یا نہیں وضو کرنا حرام اور باطل ہے لیکن اگر پہلے اس کا مالک راضی تھا اور انسان نہیں جانتا کہ اب بھی اس کی رضایت ہے یا نہیں تو اس کا وضو صحیح ہے،لیکن اگر مکان ، فضا، برتن یا وضو کے پانی گرنے کی جگہ مباح نہ ہو تو وضو صحیح ہے اگرچہ انسان نے غصبی تصرف کرنے کی وجہ سے گناہ کیا ہے اس بنا پر اگر مکان ، فضا یا وضو کا پانی گرنے کی جگہ غصبی ہو اور انسان دوسری جگہ جو غصبی نہیں ہے وہاں جا سکتا ہو تو جائے اور اگر نہیں جا سکتا تو اس کا وظیفہ تیمم ہے ، لیکن ہر صورت میں وہاں پر وضو کرےاگرچہ معصیت کی ہے لیکن اس کا وضو صحیح ہے مگر یہ کہ وضو کے لیے قصد قربت حاصل نہ ہو۔

مسئلہ 290: ایسے وضو خانہ یا حوض کے پانی سے وضو کرنا جو مساجد اور دینی مدرسہ کے لیے وقف کیا گیا ہو اور انسان نہ جانتا ہو کہ یہ جگہ تمام لوگوں کے استعمال کرنے کے لیے قرار دی گئی ہے یا صرف اس مسجد اور مدرسہ کے طلاب سے مخصوص ہے تو جائز نہیں ہے مگر یہ کہ معمولاً دین دار لوگ وہاں کے پانی سے وضو کرتے ہوں اور کوئی ان کو منع نہ کرتا ہو۔

مسئلہ 291: اگر کوئی کسی مسجد میں نماز پڑھنا چاہتا ہو اور نہ جانتا ہو کہ اس کا وضو خانہ تمام لوگوں کے لیے وقف ہے یا صرف ان لوگوں کے لیے جو اس مسجد میں نماز پڑھتے ہیں تو وہاں وضو نہیں کر سکتا لیکن اگر معمولاً وہ لوگ جو اس مسجد میں نماز نہیں پڑھنا چاہتے ہوں اس وضو خانہ سے وضو کرتے ہوں اور کوئی ان کو منع نہ کرتا ہو تو وضو کر سکتا ہے۔

مسئلہ 292: مسافرخانوں، ہوٹلوں، تجارتی جگہوں، دوکانوں اور راستوں کے ہوٹل یا ان جیسی جگہوں پر ان لوگوں کا جو ان میں مقیم نہ ہو وضو کرنا اس صورت میں صحیح ہے جب عموماً ایسے لوگ بھی جو وہاں مقیم نہ ہوں اس جگہ پر وضو کرتے ہوں اور کوئی منع نہ کرتا ہو۔

مسئلہ 293: اگر کوئی مدرسہ کا طالب علم نہیں ہے لیکن اس مدرسہ کے طلاب کا مہمان ہے تو اس مدرسہ میں اس کے لیے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر شرط یہ ہے کہ اس طرح مہمان کو قبول کرنا وقف کی شرطوں کے خلاف نہ ہو یہی حکم مسافر خانہ یا ہوٹل یا ایسی جگہ کے مسافروں کے مہمان کا بھی ہے۔

مسئلہ 294: ایسا پانی جو کسی خاص چیز کے لیے مخصوص ہے تو اس کے علاوہ کسی دوسری چیز میں استفادہ کرنا جائز نہیں ہے، جیسے کہ کولر کے ٹھنڈے پانی سے جو صرف پینےکے لیے مخصوص کیا گیا ہے وضو کرنا جائز نہیں ہے۔

مسئلہ 295: ایسی بڑی یا چھوٹی نہروں سے وضو کرنا جس کے بارے میں عاقل افراد یہ بنا رکھتے ہیں کہ اس میں تصرف کرنا اور مالک کی اجازت کے بغیر اس سے استفادہ کرنا جائز ہے گرچہ انسان کو معلوم نہ ہو کہ اس کا مالک راضی ہے ، حرج نہیں رکھتا بلکہ اس کا مالک وضو کرنے سے منع کرے یا انسان جانتا ہو کہ مالک راضی نہیں ہے یا مالک بچہ یا دیوانہ ہو اس کے بعد بھی تصرف کرنا جائز ہے۔

مسئلہ 296: اگر انسان بھول جائے کہ پانی غصبی ہے اور اس سے وضو کرے تو اس کا وضو صحیح ہے لیکن اگر خود اس نے پانی کو غصب کیا ہو اور اس کے غصبی ہونے کو بھول جائے اس کا وضو احتیاط واجب کی بنا پر اشکال رکھتا ہے اسی طرح اگر اس یقین کے ساتھ وضو کرے کہ یہ اس کا پانی ہے اور وضو کے بعد معلوم ہو کہ دوسرے کا تھا تو اس کا وضو صحیح ہے اور دونوں صورتوں میں استفادہ شدہ پانی کا اس کے مالک کے لیے ضامن ہے۔

مسئلہ 297: اگر مباح پانی(جو غصبی نہ ہو) غصبی برتن میں ہو اور انسان کے پاس اس کے علاوہ دوسرا پانی بھی نہ ہو تو شرعی طریقہ سے (مثلاً برتن کے پانی کو خالی کرنے کے لیے مالک سے اجازت لینا) اس پانی کو دوسرے برتن میں خالی كرسكتا ہے تو ضروری ہے کہ اس کو خالی کرے اور بعد میں وضو کرے اور اگر پانی کو خالی کرنا ممکن نہ ہو تو تیمم کرنا ضروری ہے اور اگر دوسرا پانی ہو تو اس سے وضو کرنا ضروری ہے اور اگر دونوں صورتوں میں مخالفت کی اور غصبی برتن کے پانی سے وضو کیا تو اس کا وضو صحیح ہے اگرچہ گناہ کیا ہے۔

مسئلہ 298: ایسے حوض سے وضو کرنا مثلاً جس کی ایک اینٹ یا پتھر غصبی ہے چنانچہ عرفاً پانی کا استعمال اس اینٹ یا پتھرمیں تصرف کرنا شمار نہ ہوتا ہو تو وضو کرنا مشکل نہیں ہے اور اگر اس اینٹ یا پتھرمیں تصرف شمار ہوتا ہو تو ایسے پانی کا استعمال حرام ہے لیکن ایسے پانی سے وضو صحیح ہے اسی طرح اگر ٹونٹی یا پانی کے پائب کا کچھ حصہ غصبی ہو لیکن خود پانی غصبی نہ ہو تو یہی حکم رکھتا ہے۔

مسئلہ 299: ائمہ طاہرین معصومین علیہم السلام یا ان کی اولاد کے مقبرے کے صحن میں جو پہلے قبرستان تھا کوئی نہر یا حوض بنائے اگر انسان کو نہیں معلوم کہ صحن کی زمین قبرستان کے لیے وقف ہوئی ہے یا نہیں تو اس حوض یا نہر میں وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر جانتا ہو کہ اس زمین کو صرف مردوں کو دفن كرنے کے لیے وقف کیا گیا ہے تو وضو خانہ یا پانی کا حوض بناناجائز نہیں ہے اور اس سے وضو کرنا حرام ہے۔
چوتھی شرط: وضو کے اعضا دھوتے اور مسح کرتے وقت پاک ہوں ← → وضو صحیح ہونے کے شرائط
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français