مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل جامع

نجاست ثابت ہونے کے طریقے ← → رفع حاجت کے مستحبات اور مکروہات

نجاسات

نجاسات کی قسمیں

مسئلہ 95: نجاسات دس چیزیں ہیں:

1
۔ پیشاب 2۔ پاخانہ 3۔ منی 4۔ مردار 5۔ خون 6۔ کتّا 7۔ سوّر 8۔ کافر 9۔ شراب 10۔ نجاست خوار حیوان کا پسینہ



1
۔2 پیشاب اور پاخانہ

مسئلہ 96: انسان اور ہر حرام گوشت حیوان جو خون جہندہ رکھتا ہو یعنی اگر اس کی رگ کو کاٹیں تو خون اچھل کر باہر آئے گا اس کا پیشاب اور پاخانہ نجس ہے اس بنا بر چوہے ، خرگوش ، بلّی اور چیر پھاڑ کھانے والے حیوانات اور ان کے مثل حیوانات کا فضلہ(پاخانہ) نجس ہے۔ اور حرام گوشت حیوان کا پاخانہ جو خون جہندہ نہیں رکھتا مثلاً حرام گوشت مچھلی اور اسی طرح چھوٹے حیوانات جیسے مچھر، مکھّی جو بغیر گوشت کے ہیں ان کا پاخانہ پاک ہے۔ لیکن احتیاط واجب کی بنا پر ان حرام گوشت حیوان کے پیشاب سے جو خون جہندہ نہیں رکھتے ضروری ہے کہ اجتناب کریں۔

مسئلہ 97: حرام گوشت پرندوں کا پاخانہ اور پیشاب پاک ہے جیسے کوّا، چیل، چمگادڑ اور اس کے مثل دوسرے پرندے اگرچہ بہتر ہے ان کے پیشاب اور پاخانہ سے اجتناب کیا جائے۔

مسئلہ 98: اس نجاست خوار حیوان کا پیشاب اور پاخانہ کہ جس کو انسان کا پاخانہ کھانے کی عادت ہو نجس ہے اور اسی طرح اس بکری کے بچہ کا پیشاب اور پاخانہ جس نے سور کا دودھ پیا ہو (جس کی تفصیل کھانے اور پینے کے احکام میں آئے گی) اور اس حیوان کا پیشاب اور پاخانہ جس سے انسان نے بدفعلی کی ہے نجس ہے ۔

3
۔منی

مسئلہ 99: انسان اور حرام گوشت مذکر جانور جو خون جہندہ رکھتا ہو اس کی منی نجس ہے اور وہ رطوبت جو عورت سے شہوت کے ساتھ خارج ہوتی ہے اور اس کے مجنب ہونے کا سبب بنتی ہے جس کی تفصیل مسئلہ نمبر 417 میں ذکر ہوگی وہ بھی منی کا حکم رکھتی ہے اور احتیاط واجب کی بنا پر حلال گوشت مذکر جانور کی منی سے بھی اجتناب کیا جائے ۔

4
۔ مردار

مسئلہ 100: انسان اور وہ حیوان جو خون جہندہ رکھتا ہے اس کی میت نجس ہے چاہے وہ خود مرا ہو یا غیر شرعی طریقہ سے اس کو مارا گیا ہو اور مچھلی کیونکہ خون جہندہ نہیں رکھتی گرچہ پانی میں مر جائے پھر بھی پاک ہے۔

مسئلہ 101: مردار کی وہ چیزیں جن میں جان نہیں ہوتی جیسے اون، بال اورپرندوں کے نئے بال، ہڈیاں اور دانت پاک ہیں، لیکن کتّا، سوّر اور کافر غیر کتابی کے بدن کے تمام اجزا نجس ہیں۔

مسئلہ 102: اگر زندہ انسان یا خون جہندہ رکھنے والے حیوان کے بدن سے گوشت یا دوسری چیز جس میں جان ہوجدا کر لیا جائے تو وہ نجس ہے۔

مسئلہ 103: اگر ہونٹ یا بدن کے کسی حصے کی مختصرسی کھال کو نوچیں چنانچہ اگر اس میں جان نہ ہو اور آسانی سے نکل آئے تو پاک ہے۔

مسئلہ 104: وہ انڈا جو مردہ مرغی کے پیٹ سے نکلتا ہے پاک ہے گرچہ اس کے اوپر کی کھال سخت نہ ہوئی ہو لیکن ضروری ہے کہ اس کے ظاہری حصے کو پانی سے دھوئیں ۔

مسئلہ 105: اگر بھیڑ یا بکری کا بچہ گھاس کھانے کے قابل ہونے سے پہلے مرجائے تو وہ پنیر مایہ جو اس کے شیردان میں ہوتا ہے پاک ہے لیکن اگر ثابت نہ ہوکہ مایع ہے تو ضروری ہے کہ اس کے ظاہر کو جو مردہ حیوان کے بدن سے مس ہوا ہے دھوئیں۔

مسئلہ 106: مختلف قسم کی دوائیں، عطر، تیل، جوتے کی پالش ، صابن ، کپڑے اور اسی طرح کی دوسری چیزیں جو دوسرے ملک سے لائی جاتی ہیں اگر انسان کو ان کی نجاست کا یقین نہ ہو تو پاک ہے۔

مسئلہ 107: گوشت، چربی، چمڑا اگر ایسے حیوان سے لیا گیا ہو جسے شرعی طریقے سے ذبح نہیں کیا گیا ہے تو نجس ہے اور اس چمڑے میں نماز باطل ہے لیکن اگر معقول احتمال دے رہا ہو کہ گوشت ، چربی اور چمڑا اس حیوان کا جسے شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا ہے تو پاک ہے اور اس چمڑے میں نماز جائز ہے اور اس مقام میں فرق نہیں ہے کہ ان چیزوں پر ذبح شرعی کی کوئی علامت پائی جاتی ہو یا نہ پائی جاتی ہو، قابلِ ذکر ہے کہ اس گوشت اور چربی کے کھانے اور اس کے ذبح شرعی کی علامتوں کو کھانے اور پینے کی چیزوں کے احکام میں بیان کیا جائے گا۔

5
۔خون

مسئلہ 108: انسان اور خون جہندہ رکھنے والے (یعنی اگر اس کی رگ کو کاٹیں تو خون اچھل کر باہر آئے گا) حیوان سے نکلنے والا خون نجس ہے، اس بنا پر ان حیوانات کا خون جو خون جہندہ نہیں رکھتے جیسے مچھلی، مچھر پاک ہے۔

مسئلہ 109: اگر حلال گوشت حیوان کو شرعی لحاظ سے ذبح کریں اور خون معمول کی مقدار میں باہر آجائے تو بدن میں باقی بچا خون پاک ہے اگرچہ اس خون کا کھانا حرام ہے لیکن اگر سانس لینے کی وجہ سے خون جانور کے بدن میں پلٹ جائے یا جانور کا سر، بلندی پر ہونے کی وجہ سے خون معمول کی مقدار میں باہر نہ آئے تو وہ خون نجس ہے اوراحتیاط مستحب کی بنا پر حلال گوشت حیوان کے حرام اجزا میں بچے ہوئے خون سے پرہیز کریں۔

اسی طرح حلال گوشت وحشی جانور جو شرعی طریقہ سے شکاری آلات کے ذریعہ شکار کئے جاتے ہیں ان کا خون معمول کی مقدار بہنے کے بعد جو باقی بچتا ہے پاک ہے۔

مسئلہ 110: ذبح ہوئے جانور کے بچے ہوئے خون کے بارے میں اگر شک ہو کہ یہ پاک خون ہے یا نجس تو پاک کا حکم رکھے گا مگر یہ کہ اس جانور کا حکم ایسے جانور میں سے ہو جسے شرعی لحاظ سے ذبح نہ کیا گیا ہوگرچہ اس وجہ سے ہو کہ خون معمول کی مقدار جانور کے بدن سے خارج نہ ہوا ہو۔

مسئلہ111: مرغی کے انڈے میں جو خون ہوتا ہے نجس نہیں ہے لیکن اس خون کا کھانا حرام ہے، پس اگر خون کے ذرّےکو نکال دیں تو بقیہ انڈا کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے،گرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ جس انڈے کی زردی میں خون ہے اس کو کھانے سے پرہیز کیا جائے۔

مسئلہ 112: وہ خون جو دودھ دوہتے وقت نظر آئے نجس ہے اور دودھ کو بھی نجس کر دیتا ہے گرچہ دوہے ہوئے دودھ کی مقدار ایک کر کے برابر اور اس کے مانند ہو ۔

مسئلہ 113: وہ خون جو دانتوں کے ریخوں سے آتا ہے اگر لعاب دہن سے مخلوط ہونے سے ختم ہو جائے تو اس لعاب سے پرہیز كرنا لازم نہیں ہے۔

مسئلہ 114: وہ خون جو چوٹ لگنے کی وجہ سے ناخن یا کھال کے نیچے جم جاتا ہے اگر اس طرح ہو کہ لوگ خون نہ کہیں تو پاک ہے، اور اگر اسے خون کہیں اور وہ ظاہر ہو جائے تو نجس ہے ،پس اگر ناخن یا کھال میں سوراخ ہو جائے اس طرح کہ خون بدن کا ظاہری حصہ شمار ہو تو اگر وضو اور غسل کے لیے خون کا نکالنا اور اس جگہ کا پاک کرنا بہت زیادہ ضرر یا تکلیف کا باعث نہ ہو تو اس خون کو باہر نکالنا ضروری ہے اور اگر بہت زیادہ ضرر یا سختی کا باعث ہو تو اگر وہ تیمم کے مقام پر نہ ہو تو تیمم ہی کافی ہے لیکن اگر وہ خون اس حصے میں ہے جو تیمم سے متعلق ہیں اور مانع شمار ہوتا ہے تو تیمم بھی کرے اور وضوئے جبیرہ بھی کرے اس مطلب کی وضاحت وضوئے جبیرہ کی بحث میں آئے گی۔

مسئلہ 115: اگر انسان کو معلوم نہ ہو کہ کھال کے نیچے خون جم گیا یا چوٹ لگنے کی وجہ سے گوشت نے ایسی حالت اختیار کر لی ہے تو پاک ہے۔

مسئلہ 116: اگر کھانا ابلتے وقت خون کا ایک ذرہ اس میں گرجائے تو پورا کھانا اور برتن بھی نجس ہو جائے گا، اور احتیاط لازم کی بنا پر ابلنا، حرارت اور آگ پاک کرنے والی نہیں ہے۔

مسئلہ 117: زخم کے صحیح ہوتے وقت اس کے اطراف میں جو زرد رنگ کا پانی ظاہر ہوتا ہے اگر اس کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ خون سے مخلوط ہے یا نہیں تو وہ پاک ہے۔

مسئلہ 118: زخم دھونے کے بعد یا صحیح ہوتے وقت جو زخم پر سرخ رنگ کی کھال ظاہر ہوتی ہے اگر معلوم نہ ہو کہ اس میں خون ہے یا نہیں توپاک ہے۔

6 ،7
۔ کتّا ، سوّر

مسئلہ 119: خشکی میں رہنے والا کتّا اور سوّر نجس ہے یہاں تک کہ ان کے بال، ہڈی، پنجے، ناخن، لعاب دہن اور دوسری رطوبتیں نجس ہیں، یہ حکم کتّا اور سوّر کی تمام قسموں کے بارے میں ہے اس حكم میں کوئی فرق نہیں ہے۔

8
۔ کافر غیر کتابی

مسئلہ 120: کافر وہ ہے :

(الف) جوخداوند متعال اور اس کی وحدانیت کا اعتراف نہ کرتا ہو ۔

(ب) یا خاتم الانبیا ﷺکی نبوت کا اعتراف نہ كرتا ہو۔

(ج) یا ضروریاتِ دین میں سے کسی ایک کا منکر ہو ، اور یہ انکار اس طرح ہو کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی تکذیب کا باعث ہو گرچہ اجمالی طور پر ہی کیوں نہ ہو اور اس جہت میں فرق نہیں ہے کہ وہ ضروری واجبات دین میں سے ہو جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حجاب یا حرام کاموں میں سے ہو جیسے شراب پینا، ربا، اور غنا ، یا اعتقادی مسائل سے ہو جیسے معاد یا اہل بیت پیغمبر ﷺ سے مودّت رکھنا۔

اس بنا پر اگر ایک شخص نے کسی بھی دین کا انتخاب نہ کیا ہو یا دین اسلام کے علاوہ کوئی اور مذہب کا پیروکار ہو یا دین اسلام کو منتخب کیا ہو لیکن بعض دستور کا جو خدا کی طرف سے پیغمبرﷺ کے ذریعہ ہم تک پہونچے ہیں جب کہ وہ جانتا ہو کہ قول پیغمبر خداﷺ ہے اس کا انکار کرے تو وہ کافر ہے، لیكن اگر کسی نے اسلام کو اپنے دین کے عنوان سے منتخب کیا ہو لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر مثلاً مسلمانوں کے ماحول سے دوری یا مخالفین دین کی طرف شبہات وارد کرنے کی بنا پر دین کے بعض فرعی احکام کو جیسے خمس، حجاب پیغمبر اسلامﷺ اور ان کے قول کو جھٹلانے کا قصد کئے بغیر انکار کرے تو وہ کافر نہیں ہوگا گرچہ گمراہ ہے۔

مجموعی طور پر کافر کو دو حصوں میں طبقہ بندی کرتے ہیں کافر کتابی یعنی یہودی، عیسائی یا مجوسی اور کافر غیر کتابی جو یہودی، عیسائی اور مجوسی نہ ہو، جن کے نجس اور پاک کا حکم بعد والے مسئلہ میں آئے گا۔

مسئلہ 121: کافر غیر کتابی کا تمام بدن نجس ہے یہاں تک بال، ناخن اور رطوبتیں بھی لیکن اہل کتاب (یہودی، عیسائی اور مجوسی) پاک ہیں۔

قابلِ ذکر ہے کہ مرتد شخص یعنی جو اسلام سے خارج ہو گیا ہے اس کے پاک اور نجس کا حکم اس گروہ میں شامل ہوگا جس میں مرتد شخص داخل ہوا ہو، پس اگر وہ کافر کتابی ہوا ہوتو پاک اور اگر کافر غیر کتابی ہوا ہو تو نجس ہے۔

مسئلہ 122: اگر نابالغ بچہ کے ماں، باپ، دادا اور دادی کافر غیر کتابی ہوں تو وہ بچہ بھی نجس ہے مگر اس صورت میں کہ جب وہ ممیز ہو یعنی اچھے برے کی تمیز رکھتا ہو اسلام کا اظہار کرے تو پاک ہے۔ اور اگر اپنے ماں باپ سے رخ موڑے اور مسلمانوں کی طرف رغبت رکھتا ہو یاتحقیق کی حالت میں ہو تو اس کی نجاست کا حکم محل اشکال ہے،اس بنا پر احتیاط واجب یہ ہے کہ ایسے مقامات میں احتیاط کے تقاضے کے مطابق رعایت کی جائے اور اگر ماں باپ دادا اور دادی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو تو اس تفصیل کے مطابق جو مسئلہ نمبر 225 میں ذكر ہوگی بچہ پاک ہے۔

مسئلہ 123: اگر کسی کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ مسلمان ہے یا نہیں اور اس کے مسلمان ہونے کی کوئی علامت بھی نہ ہو تو وہ پاک ہے لیکن مسلمانوں کے دوسرے احکام صادر نہیں ہوں گے مثلاً مسلمان عورت اس سے شادی نہیں کر سکتی اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جا سکتا ، البتہ ایسا انسان اگر سرزمین اسلام میں مر جائے ظاہراً مسلمان کے تمام احکام اس پر جاری ہوں گے لیکن وہ افراد جو غیر اسلامی معاشرہ میں زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے اعتقاد ، دین اور آئین کے بارے میں معلوم نہ ہو لیکن معقول احتمال دیا جا رہا ہو کہ مسلمان یا کافر اہل کتاب ہے تو وہ پاک ہے لیکن مسلمانوں کے احکام اس پر جاری نہیں ہوں گے۔

مسئلہ 124: غالی افراد یعنی جو ائمہ علیہم السلام میں سے کسی ایک کو خدا کہے یا یہ کہے کہ خدا اس میں حلول کیا ہے اور نواصب یعنی جو ائمہ علیہم السلام کی نسبت سے دشمنی کا اظہار كرتا ہو نجس ہیں۔ اسی طرح وہ شخص جو چہاردہ معصومین علہیم السلام میں سے كسی ایك سے بغض اور دشمنی کی وجہ سے برا بھلا کہے نجس ہے۔

لیكن خوارج دو طرح کے ہیں ایک وہ جو اہل بیت علیہم السلام کی نسبت سے دشمنی کا اظہار کرتے ہیں ان کا شمار ناصبیوں میں ہوتا ہے وہ نجس ہیں اور دوسرا گروہ جو اہل بیت علیہم السلام سے دشمنی نہیں رکھتے بلکہ خوارج کے فقہی احکام کی پیروی کرنے کی وجہ سے ان کا شمار ان میں ہوتا ہے وہ پاک ہیں۔

9
۔ شراب

مسئلہ 125: شراب نجس ہے اور اس کے علاوہ دوسری چیز جو انسان کو مست کرتی ہے نجس نہیں ہے لیکن ہر حال میں اس کا استعمال حرام ہے اور فقّاع کا حکم بعد میں بیان ہوگا۔

مسئلہ 126: الکحل چاہے صنعتی ہو یا طبّی اس کی تمام قسمیں پاک ہیں مگر یہ کہ یقین ہو کہ الکحل شراب کو تبخیر (بھاپ) اور شراب كے قطرہ قطرہ کرنے سے حاصل ہوئی ہے تو اس صورت میں نجس ہے۔

مسئلہ 127: اگر انگور کا رس خودبخود یا پکنے کی وجہ سے اُبل جائے تو پاک ہے لیکن اس انگور کے رس کا کھانا حرام ہے اور اگر شراب ہوجائے تو حرام ہونے کے ساتھ نجس بھی ہے اور اسی طرح ابلے ہوئے انگور کا کھانا احتیاط واجب کی بنا پر حرام ہے لیکن نجس نہیں ہے ۔

مسئلہ 128: کھجور، منقیٰ، کشمش اور ان کے رس میں اگرچہ ابال آجائے تو پاک اور اس کا کھانا حلال ہے لیکن اگر کھجور ، منقّیٰ اور کشمش کے رس میں ابال آجائے اور معلوم ہو کہ مست کرنے والا ہے تو اس کا کھانا حرام ہے لیکن نجس نہیں ہے۔

مسئلہ 129: فقّاع جو غالباً جَو سے بنتا ہے اور ہلکی مستی کا سبب بنتا ہے حرام ہے اور احتیاط واجب کی بنا پر نجس بھی ہے لیکن وہ آب جسے طبّی خاصیت کے لیے جوسے بناتے ہیں جسے ماءالشعیر کہتے ہیں اور کسی طرح کی مستی کا سبب نہیں ہے پاک اور حلال ہے۔

10
۔ نجاست خوار حیوان کا پسینہ

مسئلہ 130: اس اونٹ کا پسینہ جس کو انسان کے پاخانہ کھانے کی عادت ہو اس طرح ہے کہ صرف پاخانہ ہی اس کی غذا شمار ہو نجس ہے اور احتیاط واجب کی بنا پر اسی طرح کے دوسرے جانور کا پسینہ بھی نجس ہے۔

مسئلہ 131: حرام طریقے سے (مثلاً زنا سے یا استمنا کے ذریعے) مجنب ہونے والے شخص کا پسینہ پاک ہے اور اس کے ساتھ نماز صحیح ہے اگر چہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ اگر انسان کا بدن اور لباس اس طرح کے پسینے سے آلودہ ہو اور ابھی خشک نہ ہوا ہو اور عین باقی ہو تو نماز نہ پڑھے۔

نجاست ثابت ہونے کے طریقے ← → رفع حاجت کے مستحبات اور مکروہات
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français